پہلگام حملے پر نہیں، سیاست کیلئے خصوصی پارلیمانی اجلاس کی طلبی

   

موجودہ چیلنجز پر مباحث کے بجائے 50 سال پرانے معاملات کو اٹھانے کا مرکز پر الزام :کانگریس

نئی دہلی: کانگریس پارٹی نے مرکزی حکومت پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے پہلگام دہشت گردانہ حملے پر اپوزیشن کی جانب سے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کی مانگ کو نظر انداز کر دیا لیکن اب وہ سیاسی مقاصد کے تحت 25 اور 26 جون کو خصوصی اجلاس بلانے کی تیاری میں ہے۔کانگریس کے سینئر رہنما اور پارٹی کے جنرل سیکریٹری انچارج شعبہ مواصلات جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ حکومت عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 22 اپریل کی رات سے ہی کانگریس پارٹی پہلگام دہشت گرد حملے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے تناظر میں وزیر اعظم کی صدارت میں آل پارٹی میٹنگ بلانے کا مطالبہ کر رہی ہے لیکن یہ میٹنگ ابھی تک نہیں بلائی گئی۔جے رام رمیش کے مطابق 10 مئی کو لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے مشترکہ طور پر وزیر اعظم کو خط لکھا تھا جس میں پہلگام حملے پر تفصیلی بحث کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کی اپیل کی گئی تھی تاکہ اس مسئلے پر مشترکہ قرارداد کے ذریعے قومی عزم کا اظہار کیا جا سکے لیکن وزیر اعظم نے اس مشورے کو بھی نظرانداز کر دیا۔انہوں نے کہا کہ اب اطلاعات آ رہی ہیں کہ 25 اور26 جون کو ایمرجنسی کی 50ویں برسی کے موقع پر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا جا رہا ہے۔ یہ موجودہ اور فوری نوعیت کے مسائل سے توجہ ہٹانے کی ایک اور مثال ہوگی جبکہ ملک گزشتہ 11 سال سے ایک غیر اعلانیہ ایمرجنسی جیسی صورتحال سے گزر رہا ہے۔جے رام رمیش نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ پہلگام حملے میں ملوث دہشت گرد اب تک کیوں نہیں پکڑے گئے؟ انہوں نے کہا کہ جب پاکستان اور دہشت گردوں کو نشانہ بنانا چاہیے، تب بی جے پی کی ساری توجہ کانگریس پر حملہ کرنے پر مرکوز ہے۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں جے رام رمیش نے کہا کہ حکومت موجودہ چیلنجز پر گفتگو کے بجائے 50 سال پرانے معاملات کو اٹھانا چاہتی ہے۔ انہوں نے پھر سے مطالبہ کیا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان نئی پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر 1994 میں منظور شدہ پارلیمانی قرارداد کو دوبارہ پیش کیا جائے، جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔کانگریس نے یہ مطالبہ بھی دہرایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر خاموشی توڑیں، جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے ہندوستان و پاکستان کے درمیان فوجی کشیدگی کو تجارتی معاہدے کے ذریعے ختم کرانے کردار ادا کیا۔ اس معاملہ پر مودی حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ڈی جی ایم او کے ساتھ بات چیت کے بعد کارروائی روکنے پر غور کیا گیا تھا۔

بی جے پی سندور کے نام پر سیاست کر رہی ہے :کانگریس

نئی دہلی، 29 مئی (یواین آئی) کانگریس نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی قیادت والی حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے سندور کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور ‘آپریشن سندورکی کامیابی کے ہورڈنگس لگا رہی ہے اور ان پر ان کی تصویریں چھاپ رہی ہے اور اب گھر گھر سندور تقسیم کرنے کے پروگرام کا اعلان کیا گیا ہے ۔کانگریس کی ترجمان راگنی نائک نے جمعرات کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بی جے پی آپریشن سندور کے نام پر پہلے ہی بہت زیادہ سیاست کر رہی ہے اور اس نے اپنی کامیابی کا کریڈٹ مودی کو دینے میں پوری طاقت لگا دی ہے ۔ اگر یہ کافی نہیں تو اب گھر گھر سندور کے ڈبے تقسیم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ مودی اس میں بھی کھیلیں گے اور جس ڈبے میں سندور جائے گا اس پر ان کی تصویر چھپی ہوگی۔ اس سے پہلے بھی وہ کورونا سرٹیفکیٹ پر اپنی تصویر چھاپ چکے ہیں اور سندور کے خانے میں ان کی تصویر ہوگی۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی ہندو مذہب کی خود ساختہ ٹھیکیدار ہے اور سندور کے نام پر سیاست کر رہی ہے ، لیکن انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ہندو ستانی شادی شدہ خاتون کی مانگ میں اس کے شوہر نے سندور لگایا ہے یا وہ اسے اپنے سسرال سے یا شکتی پیٹھ یا مندر سے خوش قسمتی کی نعمت کے طور پر حاصل کرتی ہے ۔ (آر ایس ایس) خواتین کی ازدواجی زندگی کو برباد کرنے والے دہشت گرد ابھی تک مارے نہیں گئے ہیں، ان کے وزیر وجے شاہ نے کرنل صوفیہ قریشی پر قابل اعتراض تبصرہ کرتے ہیں۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رام چندر جانگڑا کہتے ہیں کہ وہ خواتین بہادر خواتین نہیں تھیں، اس لیے ان کے شوہروں کو گولی مار دی گئی۔