پیاز کی ذخیرہ اندوزی سے قیمت میں غیر معمولی اضافہ

   

ملک میں پیاز کی کوئی قلت نہیں ، پیداور بھی حسب معمول ، محکمہ زراعت کا بیان
حیدرآباد۔18نومبر(سیاست نیوز) ملک میں پیاز کی کوئی قلت نہیں ہے لیکن قیمتوں کو قابو میں لانے کے اقدامات نہ کئے جانے کے سبب جو صورتحال پیدا ہورہی ہے اس کے نتیجہ میں بعض مقامات پر پیاز کی قیمت 100 روپئے سے تجاوز کرچکی ہے اور ملک کے کئی اہم شہروں میں پیاز کی قیمت 70 اور 80روپئے تک بھی پہنچ چکی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ پیاز کی کوئی قلت نہیں ہے اور پیداوار میں بھی کوئی کمی ریکارڈ نہیں کی گئی ہے بلکہ پیاز کی پیداوار معمول کے مطابق ہے لیکن گذشتہ چندماہ کے دوران اچانک پیاز کی قیمتو ںمیں ہونے والے اضافہ کے سبب اب پیاز کی ذخیرہ اندوزی کے ذریعہ قیمتوں میں اضافہ کیا جانے لگا ہے۔شہر حیدرآباد کے علاوہ ملک کی دیگر ریاستوں اور شہروں میں بھی پیاز کی مصنوعی قلت کی اطلاعات موصول ہونے لگی ہیں اور کہا جا رہاہے کہ پیاز کی قلت کے سبب پیاز کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے لیکن کسانوں اور محکمہ زراعت کا کہناہے کہ ریاست اور ملک کے دیگر علاقوں میں جہاں پیاز کی پیداوار ہوتی ہے ان مقامات سے جو اطلاعات موصول ہورہی ہیں انہیں دیکھتے ہوئے یہ کہا جا رہا ہے کہ پیداوار میں کوئی قلت نہیں ہے لیکن شہر حیدرآباد میں پیاز کی سال گذشتہ کی قیمت کا جائزہ لیا جائے تو ان دنوں میں سال گذشتہ جو قیمتیں ہوا کرتی تھیں اس میں دوگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ اس کی بنیادی وجہ قیمتوں کے تعین کا کوئی مستقل نظام نہیں ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ شہر میں 3 اقسام کی پیاز فروخت کی جاتی ہے جس میں معیاری پیاز کی طلب زیادہ ہوتی ہے اور درمیانی اور اوسط پیاز کا گھریلواستعمال زیادہ ہوتا ہے لیکن جاریہ ماہ کے دوران پیاز کی قیمتوں میں جو اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے وہ سال گذشتہ کی مناسبت سے دوگنا ہونے کے سبب شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور ٹھوک تاجرین کی جانب سے بھاری قیمتیں وصول کئے جانے کے سبب ریٹیل میں جو قیمت وصول کی جا رہی ہے اس میں بھی زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے ۔ ٹھوک تاجرین کا کہناہے کہ پیاز کی قلت کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے جبکہ کسانوں کا کہناہے کہ پیداوار میں کوئی کمی نہیں ہے اور ان کی جانب سے ذخیرہ اندوزی کئے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جبکہ ریٹیل تاجرین کہہ رہے ہیں کہ ان سے جو قیمت وصول کی جا رہی ہے اس پر وہ اپنا منافع رکھتے ہوئے اپنی اشیاء فروخت کرتے ہیں اور ٹھوک قیمتیں بازار میںکھلی ہوتی ہیں اسی لئے ان کی جانب سے زیادہ وصولی کا جواز ہی نہیں ہے۔