پی آر سی پر عدم عمل آوری ، ملازمین حکومت سے ناراض

   

ڈی اے ، ریٹائرمنٹ بینیفٹس کے بروقت جاری نہ ہونے پر بھی برہمی
حیدرآباد ۔ 29 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) ریاست کے سرکاری ملازمین پی آر سی اور ڈی اے کے ساتھ دیگر بقایہ جات کی عدم اجرائی پر حکومت سے سخت ناراض ہیں۔ مرکزی حکومت نے ملازمین کی تنخواہوں پر نظر ثانی کیلئے آٹھویں پے کمیشن کا اعلان کردیا ہے لیکن ریاستی حکومت اس معاملہ میں ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔ کانگریس پارٹی نے اسمبلی انتخابات میں کامیابی پر حکومت کی تشکیل کے 6 ماہ میں نئی پی آر سی پر عمل کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس میں ابھی تک کوئی پیشرفت نہ ہونے کی وجہ سے سرکاری ملازمین ، ٹیچرس اور پنشنرس میں تشویش پائی جاتی ہے۔ تلنگانہ کی پہلی پی آر سی کی میعاد 30 جون 2023 کو مکمل ہوگئی تھی، اسی سال جولائی سے دوسری پی آرسی پر عمل ہونا لازمی ہے۔ سابق بی آر ایس حکومت نے دوسری پی آر سی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کمیٹی کو 6 ماہ میں ہی اپنی رپورٹ پیش کرنا تھا لیکن 2 اپریل 2024 تک اس کمیٹی کی میعاد میں توسیع کی گئی ۔ اسمبلی اور پارلیمنٹ کے انتخابات کے پیش نظر کمیٹی کی میعاد میں 6 ماہ کی توسیع کی گئی۔ یکم ؍اکتوبر کو پی آر سی کمیٹی تشکیل دینے کے دو سال مکمل ہونے کے بعد کمیٹی سے سرکاری ملازمین اور تنظیموں کے نمائندوں نے سرکاری ملازمین کو 51 فیصد فٹمنٹ دینے کی تجویز پیش کی تھی۔ 2