پی آر سی پر عمل آوری کیلئے ملازمین کی تنظیموں کا احتجاج

   

حکومت کی جانب سے ٹال مٹول کا الزام، یونینوں کو بات چیت کیلئے مدعو کیا جائے
حیدرآباد۔ تلنگانہ کے سرکاری ملازمین نے پی آر سی پر عمل آوری کیلئے حکومت پر دباؤ بنانے احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے پی آر سی پر عمل آوری کیلئے چیف سکریٹری کی قیادت میں سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جسے ہدایت دی گئی تھی کہ اندرون ایک ماہ حکومت کو سفارشات پیش کریں تاکہ تنخواہوں میں اضافہ اور وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر میں توسیع سے متعلق فیصلے کئے جاسکیں۔ سہ رکنی کمیٹی کی جانب سے ابھی تک سرکاری ملازمین کی تنظیموں سے مشاورت نہیں کی گئی جس کے نتیجہ میں اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ پی آر سی پر عمل آوری میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ سرکاری ملازمین نے حکومت پر دباؤ بنانے کیلئے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کیا ہے اور پہلے مرحلہ میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ارکان نے اندرا پارک کے پاس دھرنا منظم کرتے ہوئے گرفتاری کے لئے پیش کیا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا الزام ہے کہ حکومت ملازمین کے دیرینہ مسائل کو نظرانداز کررہی ہے۔ حکومت نے ملازمین سے جو وعدے کئے تھے ان پر عمل نہیں کیا گیا۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد پہلی مرتبہ پی آر سی کی مکمل رپورٹ پیش کی گئی لیکن فوری عمل آوری کے امکانات دکھائی نہیں دیتے۔ بتایا جاتا ہے کہ گریجویٹ زمرہ کی ایم ایل سی نشستوں کے علاوہ ناگرجنا ساگر ضمنی چناؤ اور بعض اضلاع میں بلدی انتخابات کے پیش نظر چیف منسٹر سرکاری ملازمین کو خوش کرنے کیلئے پی آر سی پر عمل آوری کا اعلان کرسکتے ہیں لیکن چیف سکریٹری کی جانب سے سرکاری ملازمین کی یونینوں سے مشاورت میں تاخیر کے سبب بے چینی پائی جاتی ہے۔ چیف سکریٹری نے آئندہ ہفتہ ملازمین کی یونینوں کو بات چیت کیلئے مدعو کرنے کا تیقن دیا ہے۔ چیف منسٹر نے 18 مئی 2018 کو پی آر سی تشکیل دی تھی لیکن رپورٹ پیش کرنے کے بعد سفارشات کو برفدان کی نذر کردیا گیا۔ ملازمین کی اسٹیرنگ کمیٹی کے رکن سدانند گوڑ نے حکومت کے رویہ پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ سرکاری ملازمین کیلئے تنخواہوں میں اضافہ اور وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر میں توسیع کے وعدے پر فوری عمل کیا جائے۔ انہوں نے قدیم پنشن اسکیم کی بحالی کی مانگ کی ہے۔ ملازمین نے اندرا پارک پر ایک روزہ بھوک ہڑتال کی لیکن پولیس نے احتجاج کو ناکام بناتے ہوئے قائدین کو حراست میں لے لیا۔ ملازمین کی مختلف تنظیمیں اپنے احتجاج میں مزید شدت پیدا کرسکتی ہیں۔