کمھبے کو ووٹ باندھنے کی روایت واپس،مسترد کردہ افراد مسلط، مقامی عوام میں ناراضگی، رائے دہی سے دوری
حیدرآباد۔/14 نومبر، ( سیاست نیوز) پرانے شہر حیدرآباد کے مسلمان کیا بے زبان اور کمزور ہیں کہ ان کی آواز کی کوئی سماعت نہیں کی جاتی۔ مسلمانوں کی اکثریت والے اسمبلی حلقہ جات میں مقامی جماعت مجلس کے امیدواروں کا انتخاب عوام کی مرضی سے نہیں کیا جاتا بلکہ ان پر قیادت کے پسندیدہ افراد کو مسلط کردیا جاتا ہے۔ مجلس کی سابقہ قیادت کا یہ جملہ آج بھی عوام کے ذہنوں میں محفوظ ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر مجلس کھمبے کو ٹکٹ باندھ دے تو کھمبا بھی الیکشن جیت جائے گا۔ یہ جملہ جس تناظر میں ادا کیا گیا آج کی صورتحال اس کا عملی نمونہ دکھائی دے رہی ہے۔ امیدواروں کے انتخاب کے معاملہ میں رائے دہندوں کو اپنی پسند کا جمہوریت میں اختیار ہوتا ہے لیکن پرانے شہر کے اسمبلی حلقہ جات کے رائے دہندے اس معاملہ میں مظلوم ثابت ہوئے ہیں جہاں ہر الیکشن میں قیادت اپنی پسند کو مسلط کرتے ہوئے کامیابی کی اپیل کرتی ہے۔ عوام کے پسندیدہ امیدواروں کی کمی کے نتیجہ میں پرانے شہر میں رائے دہی کا فیصد تیزی سے گھٹ رہا ہے۔ ایک زمانہ وہ تھا جب چندرائن گٹہ، چارمینار اور یاقوت پورہ اسمبلی حلقہ جات میں رائے دہندوں کو ووٹ ڈالنے سے لمحہ آخر میں روکنا پڑتا تھا تاکہ رائے دہی 100 فیصد تک نہ پہنچ جائے۔ صد فیصد رائے دہی کی صورت میں دوبارہ رائے دہی کا اندیشہ ہوتا ہے لہذا عوام کو 95 تا 98 فیصد پر روک دیا جاتا تھا۔ رائے دہی کا دن پرانے شہر کے عوام کے لئے کسی تہوار سے کم نہ ہوتا اور ہر گھر کے مرد و خواتین صبح ہوتے ہی اپنا سب کام کاج چھوڑ کر پولنگ اسٹیشن پر قطار میں دکھائی دیتے۔ جب امیدوار کی جماعت سے جذباتی وابستگی کے نتیجہ میں یہ صورتحال تھی لیکن آج قیادت کے رویہ نے عوام کی جذباتی وابستگی کو کمزور کردیا ہے اور رائے دہی میں حصہ لینے کیلئے بھی تعلیم یافتہ اور سنجیدہ افراد تیار دکھائی نہیں دیتے۔ مسلم حلقہ جات میں رائے دہی کے گھٹتے فیصد کی وجوہات کا پتہ چلانے کی کوشش کی گئی تو رائے دہندوں کا یہ احساس تھا کہ پرانے شہر کے حلقہ جات اور خاص طور پر چارمینار اور یاقوت پورہ قیادت کی نظر میں انیس الغرباء اور یتیم خانے سے زیادہ اہمیت کے حامل نہیں ہیں جہاں نااہل، ناکارہ اور دیگر علاقوں کے مسترد کردہ افراد کو امیدوار کے طور پر مسلط کیا جارہا ہے۔دونوں اسمبلی حلقہ جات کی بدقسمتی کہیئے کہ ہمیشہ عوام کی پسند کے برخلاف امیدواروں کو مسلط کرتے ہوئے کھمبے کو ٹکٹ باندھنے کی تاریخ دہرائی گئی ہے۔ کھمبے کو ٹکٹ باندھنے کا دعویٰ کرنے والی قیادت نے اپنے دور میں عوام کے خدمت گذار قائدین کو امیدوار بنایا تھا لیکن آج نمائندے تو ہیں لیکن کھمبوں کی طرح عوام کی نظر میں بے فیض دکھائی دے رہے ہیں۔ جب کبھی دونوں حلقہ جات میں عوامی ناراضگی بڑھ جاتی ہے تو نئے چہروں کو متعارف کرنے کے بجائے دیگر علاقوں کے مسترد کردہ چہروں کو مسلط کرتے ہوئے یہاں والوں کو دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے۔ گذشتہ اسمبلی انتخابات میں چارمینار اور یاقوت پورہ کے امیدواروں کو آپس میں تبدیل کردیا گیا تاکہ عوام کو مطمئن کیا جاسکے۔ اب جبکہ یاقوت پورہ کے موجودہ رکن اسمبلی کو ٹکٹ سے محروم کردیا گیا تو امید کی جارہی تھی کہ کسی عوام خدمت گذار کو ٹکٹ دیا جائے گا لیکن نامپلی کے رکن اسمبلی کو یاقوت پورہ منتقل کردیا گیا کیونکہ نامپلی میں ان کی کارکردگی سے عوام مطمئن نہیں تھے۔ اسی طرح حلقہ اسمبلی چارمینار میں اذکار رفتہ قائد کو عوام پر مسلط کردیا گیا جو قیادت اور عوام میں ’ماموں‘ کے نام سے شہرت رکھتے ہیں۔ کیا مسلمانوں میں قابل اور خدمت کا جذبہ رکھنے والے نوجوانوں کی کمی ہے کہ مجلسی قیادت عوام کے ناپسندیدہ افراد کو مسلط کررہی ہے۔ مقامی جماعت کے ایک قائد نے ریمارک کیا کہ امیدوار کے انتخاب کیلئے قابلیت اور اہلیت سے زیادہ قیادت سے وفاداری اولین ترجیح ہوتی ہے۔ اگر قیادت کی پسند کا یہی رجحان رہا تو وہ دن دور نہیں جب ان حلقہ جات سے 1994 کی تاریخ دہرائی جائے گی لیکن شرط یہ ہے کہ عوام میں کوئی محمد امان اللہ خاں پیدا ہو۔