کرنٹ چاہئے یا کانگریس ،عوام فیصلہ کرلیں، تین انتخابی جلسوں سے چیف منسٹر کا جارحانہ خطاب
حیدرآباد ۔ 14 ۔ نومبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ کانگریس کے لالچ پر بھروسہ کیا گیا تو عوام کو آئندہ 5 سال سزا بھگتنے کیلئے تیار رہنا پڑے گا ۔ ہمارا ووٹ ، ہماری ریاست ، اسمبلی حلقہ اور خاندان کے مستقبل کو طئے کرنا ہے ۔ چار پیسے اور دو بوتلیں دینے کا لالچ دینے پر ا پنا قیمتی ووٹ کسی بھی پارٹی اور امیدوار کو نہ دیں بلکہ ترقی اور بہبودکیلئے کام کرنے والی بی آر ایس پارٹی کو ووٹ دیں۔ پالکرتی ، پالیسہ اور ابراہیم پٹنم میں منعقدہ بی آر ایس عوام آشیرواد جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی قائدین کی باتیں سن کر عوام گول مال کا شکار نہ ہوں اور نہ ہی اپنے بچوں کے مستقبل کو نقصان پہنچائیں بلکہ کام کرنے والی بی آر ایس پارٹی کو ووٹ دیتے ہوئے آشیرواد دیں۔ تلنگانہ میں تیسری مرتبہ بی آر ایس پارٹی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی ۔ کوئی بھی طاقت بی آر ایس کو اقتدار حاصل کرنے سے روک نہیں سکتی ۔ بی آر ایس حکومت میں آسرا پنشن 5000 روپئے ہوجائے گا ۔ کانگریس دور میں صرف 200 روپئے پنشن دیا جاتا تھا، ہم نے اس کو بڑھاکر پہلے 1000 روپئے اور پھر 2000 روپئے کردیا۔ بی آر ایس کو تیسری مرتبہ اقتدار حاصل ہونے کے بعد آئندہ پانچ سال تک آسرا پنشن کی رقم بڑھاکر 5000 روپئے تک پہنچ جائے گی ۔ رعیتو بندھو کی رقم 16 ہزار روپئے تک بڑھ جائے گی ۔ 14 سال تک جدوجہد کرتے ہوئے علحدہ تلنگانہ ریاست حاصل کی گئی10 سال میں تلنگانہ کو ترقی کے معاملہ میں سرفہرست بنادیا گیا ۔ فلاحی اسکیمات ملک کیلئے مثالی ثابت ہورہی ہیں۔ مرکزی حکومت کے علاوہ ملک کی دیگر ریاستیں اس کی تقلید کر رہی ہیں۔ 24 گھنٹے معیاری برقی سربراہ ہورہی ہے ۔ گھروں کو نلوں کے ذریعہ پینے کا پانی سربراہ ہورہا ہے ۔ طبی نظام کو بہتر بنایا گیا ہے ۔تعلیمی نظام میں بڑے پیمانہ پر اصلاحات لائے گئے۔ سرکاری و خانگی شعبوں میں لاکھوں ملازمتیں فراہم کئے گئے ہیں۔ کانگریس کے 50 سالہ دور حکومت پر بی آر ایس کا 10 سالہ دور حکومت حاوی ہے۔ عوام شہروں اور دیہی علاقوں میں آپس میں بحث و مباحث کریں ، کس کے دور حکومت میں سکون پرامن ، خوشحالی ، تر قی اور بہبود زیادہ ہوئی ہے۔ اس پر غور کریں۔ کانگریس اور بی جے پی کے قائدین سیاسی مفاد پرستی کیلئے جھوٹے وعدے کر رہے ہیں ۔ اگر ان کے وعدوں پر بھروسہ کیا گیا تو ریاست کا مستقبل خطرہ میں پڑجائے گا ۔ اگر دھرانی پورٹل کو برخواست کردیا گیا تو کسانوں کے بینک کھاتوں میں پیسے کیسے جمع ہوں گے ۔ بی آر ایس حکومت نے تاحال کسانوں کے بینک کھاتوں میں 72 ہزار کروڑ روپئے جمع کرائے ہیں۔ مرکزی حکومت نے سارے ملک میں 157 میڈیکل کالجس منظور کئے ۔ تلنگانہ کو ایک میڈیکل کالج بھی منظور نہیں کیا گیا ۔ ایسی بی جے پی کو کیوں ووٹ دیا جائے۔ تلنگانہ کے زرعی بور ویلز کو میٹرس نہ لگانے پر مرکزی حکومت نے انتقامی کارروائی کرتے ہوئے تلنگانہ کے 25 ہزار کروڑ روپئے کی کٹوتی کردی ہے ۔ تلنگانہ کے 33 اضلاع میں ہر ایک ضلع کو ایک نو ودیا اسکول منظور کرنے کیلئے انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو 100 مکتوبات روانہ کئے مگر وزیر اعظم نے انہیں نظر انداز کردیا ۔ ایسی بی جے پی کو تلنگانہ میں سبق سکھانے کی ضرورت ہے ۔ کانگریس کے قائدین اقتدار کا خواب دیکھ رہے ہیں جو3 ڈسمبر کو چکنا چور ہوجائے گا ۔ پڑوسی ریاستوں کے قائدین تلنگانہ کی عوامی حکومت کو ہرانے کیلئے میدان سنبھال لیا ہے ۔ یہ انتخابات تلنگانہ عوام کی عزت نفس کے انتخابات ہیں۔ بی آر ایس کو شکست دینے کیلئے قائدین دہلی، گجرات اور کرناٹک سے تلنگانہ پہنچ کر عوام کو گمراہ کر رہے ہیں ۔ جھوٹے وعدے کر رہے ہیں ۔ ان پر بھروسہ کیا گیا تو ریاست کا مستقبل خطرہ میں پڑے جائے گا ۔ تمام فلاحی اسکیمات برخواست ہوجائے گی ۔ ریاست کی باگ ڈور لٹیروں کے ہاتھوں میں چلے جائے گی۔ن