چاول حاصل نہ کرنے پر امدادی رقم سے محروم نہیں کیا جاسکتا

   

تلنگانہ ہائی کورٹ کے احکامات، تمام سفید راشن کارڈس ہولڈرس کو 1500 روپئے کی اجرائی کی ہدایت
حیدرآباد ۔10۔ جون(سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے محکمہ سیول سپلائیز کی جانب سے بعض سفید راشن کارڈس ہولڈرس کو 1500 روپئے کی امدادی رقم سے محروم کرنے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران راشن شاپس سے چاول حاصل نہ کرنے والے افراد کو 1500 روپئے کی امداد نہیں دی گئی۔ چیف جسٹس راگھویندر سنگھ چوہان اور جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے سیول سپلائیز حکام کی فیصلہ کے بارے میں سوال کیا۔ عدالت نے اس معاملہ میں ایڈوکیٹ وی ناگراج کا تقرر کیا جو اس مسئلہ پر بنچ کی رہنمائی کریں گے ۔ درخواست گزار نے کہا کہ ریاست میں 88 لاکھ سفید راشن کارڈ ہولڈرس ہیں اور عہدیدار نے 8.25 لاکھ راشن کارڈ ہولڈرس کو امدادی رقم جاری نہیں کی ہے ۔ عدالت نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے پہلے یہ شرط رکھی جاتی کہ تین ماہ تک چاول حاصل نہ کرنے والوں کو رقم نہیں ملے گی تو اس وقت حکام کا یہ قدم جائز تھا۔ عدالت نے کہا کہ کورونا وباء کے پھیلاؤ کی صورتحال میں اس طرح کی شرائط متعارف کرنا مناسب نہیں ہے۔ بنچ نے کہا کہ چاول حاصل نہ کر نے پر کسی خاندان کو امدادی رقم سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ اس سلسلہ میں پہلے سے رول بک میں شرط درج کرنی چاہئے تھی۔ عدالت نے 18 جون تک اس سلسلہ میں حکومت سے جواب طلب کیا ہے ۔ عدالت سے تعاون کرنے والے وکیل نے بتایا کہ سابق میں ہائی کورٹ کے عبوری احکامات موجود ہیں جس کے تحت چاول حاصل نہ کرنے والے افراد کو بھی امدادی رقم دینے کی ہدایت دی گئی ۔ ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے بتایا کہ ہائی کورٹ کے احکامات کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے حکم التواء تک ہائی کورٹ کے احکامات برقرار رہیں گے۔