چندرا بابو نائیڈو کی گرفتاری کے خلاف حیدرآباد میں احتجاج کی اجازت کیوں نہیں؟

   

کے ٹی آر سے ریونت ریڈی کا سوال، رکن اسمبلی ہنمنت راؤ کی آج کانگریس میں شمولیت

حیدرآباد۔/27ستمبر، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے کہا کہ حیدرآباد 10 برسوں تک تلگوریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت ہے اور آندھرا پردیش کے کسی مسئلہ پر حیدرآباد میں احتجاج سے روکنا ناقابل فہم ہے۔ ریونت ریڈی نے کے ٹی راما راؤ کی جانب سے اس سلسلہ میں دیئے گئے بیان پر حیرت کا اظہار کیا۔ سابق چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو کی گرفتاری کے خلاف حیدرآباد میں احتجاج کی اجازت سے حکومت نے انکار کردیا ہے۔ ریونت ریڈی نے کہاکہ چندرا بابو نائیڈو کی گرفتاری کا معاملہ صرف آندھرا پردیش سے متعلق نہیں ہے۔ چندرا بابو نائیڈو قومی قائد ہیں اور ان کی گرفتاری کے خلاف حیدرآباد میں احتجاج کرنے میں کوئی غلطی اور قباحت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے تمام افراد تلنگانہ کے ووٹرس ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں کو روکنا اور تحدیدات عائد کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ ہر شخص کو جمہوری انداز میں احتجاج کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاجیوں کا تعلق چاہے کسی پارٹی سے ہو انہیں روکا نہیں جاسکتا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ آئی ٹی ملازمین کے احتجاج میں کیا غلطی ہے۔ علحدہ تلنگانہ تحریک کے دوران امریکہ میں بھی احتجاج کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کس حیثیت سے اسوقت امریکہ میں تلنگانہ کی تائید میں احتجاج کیا گیا۔ ہر معاملہ کیلئے نئی دہلی کے جنترمنتر پر احتجاج کیا جاتا ہے اور تلنگانہ کیلئے بھی دہلی میں احتجاج کیا گیا۔ ریونت ریڈی نے بتایا کہ کانگریس امیدواروں کی فہرست ایک ہی وقت میں مکمل جاری نہیں کی جائے گی۔ مرحلہ وار انداز میں فہرست جاری کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بی آر ایس کے باغی رکن اسمبلی ایم ہنمنت راؤ اور ان کے فرزند کو کانگریس کی جانب سے ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مینن پلی ہنمنت راؤ کل جمعرات کو کانگریس میں شمولیت اختیار کریں گے۔