نئی دہلی ۔11 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام )کرکٹراجیت چنڈیلا پرانڈر14 ٹیم میں انتخاب کے نام پرلاکھوں روپئے کی دھوکہ دہی کا الزام لگا ہے۔ اترپردیش کے ہاپوڑکے ایک تاجرنے الزام لگایا ہے کہ ان کے بیٹے کوٹیم میں شامل کرنے کیلئے ان سے ساڑھے سات لاکھ روپئے لئے گئے۔ انہوں نے اجیت چندیلا کے خلاف ایف آئی آردرج کرائی ہے۔الزام ہیکہ اجیت چنڈیلا ا نے متاثرہ شخص کے بیٹے کا انتخاب انڈر14 ہندوستانی کرکٹ ٹیم میں کرانے کا وعدہ کیا تھا۔ چنڈیلا نے اس کیلئے ساڑھے سات لاکھ روپئے کا مطالبہ کیا تھا۔ 24 دسمبر2018 میں اجیت چنڈیلا ا اس کے گھرپہنچا، جہاں متاثرہ شخص نے ایک جاننے والے کے سامنے اجیت کوساڑھے سات لاکھ روپئے دے دیئے۔ اس کے بعد چنڈیلا ا نے کہا کہ فروری 2019 میں ان کا انتخاب ہوجائے گا۔ تاہم کئی ماہ کے انتظارکے بعد بھی متاثرہ شخص کے بیٹے کا انتخاب نہیں ہوسکا۔ انتخاب نہ ہونے پراس نے اپنے پیسے واپس مانگے۔ بعد میں مارچ 2019 میں اجیت چنڈیلا ا نے سات لاکھ کا چیک دے کردوماہ کے اندرپچاس ہزار روپئے نقد دینے کا وعدہ کیا، لیکن چیک کھاتے میں جمع کرنے کے بعد باؤنس ہوگیا۔ چندیلا کے خلاف ایف آئی آردرج کرکے معاملے کی جانچ شروع کردی گئی ہے۔یاد رہے کہ سال 2013 میں اجیت چندیلا پرآئی پی ایل میں اسپاٹ فکسنگ میں شامل ہونیکا الزام لگا تھا۔ اس وقت چندیلا آئی پی ایل میں راجستھان رائلس کیلئے کھیلتے تھے۔ دہلی پولیس نے16 مئی 2013 کوسری سنت اورانکت چوہان کیساتھ ساتھ چندیلا کواسپاٹ فکسنگ کے الزام میں گرفتارکیا تھا۔ بعد میں بی سی سی آئی نے ان پرتاعمرپابندی لگا دی تھی۔ اس معاملے میں سری سنت کے خلاف عائد پابندی آئندہ سال اگست میں ختم ہوجائے گی۔