رائے پور : کیا آپ نے کبھی حکومت کی جانب سے پیش کردہ ہاتھ سے لکھا ہوا بجٹ دیکھا ہے؟ شاید آپ کا جواب ہوگا نہیں۔ لیکن حکومت نے چھتیس گڑھ میں یہ کام کیا ہے۔ چھتیس گڑھ میں پہلی بار ہاتھ سے لکھا ہوا بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ ریاستی وزیر خزانہ او پی چودھری نے اسے پیش کیا۔ بجٹ پیش کرنے سے پہلے چیف منسٹر وشنو دیو سائی نے کہا کہ آج چھتیس گڑھ کے سلور جوبلی سال کا گولڈن بجٹ پیش ہونے جا رہا ہے۔ اٹل تعمیر سال کا یہ بجٹ ریاست کی ترقی کا بجٹ ہوگا، ترقی یافتہ چھتیس گڑھ کے وژن کو عملی جامہ پہنانے والا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 13 مہینوں میں ریاست کے عوام کا ہماری حکومت پر اعتماد بحال ہوا ہے۔ عوام کے آشیرواد اور ان کے اعتماد کو برقرار رکھتے ہوئے ہم چھتیس گڑھ کو ایک ترقی یافتہ ریاست بنائیں گے۔ چھتیس گڑھ اسمبلی میں ایک انوکھا لمحہ دیکھنے کو ملا۔ یہ لمحہ واقعی تاریخی تھا۔ ریاستی وزیر خزانہ او پی چودھری نے اسمبلی میں ہاتھ سے لکھا ہوا بجٹ پیش کیا ہے۔ ہاتھ سے لکھا ہوا بجٹ دیکھنے کے لیے وہاں موجود تمام لوگوں میں تجسس تھا۔ ہاتھ سے لکھا ہوا یہ بجٹ تقریباً100 صفحات پر مشتمل ہے۔ ریاست میں یہ پہلا موقع ہے کہ کمپیوٹر ٹائپ بجٹ کے بجائے خود وزیر خزانہ کے ہاتھ سے لکھا ہوا بجٹ ایوان میں پیش کیا گیا۔ بجٹ 100صفحات پر مشتمل ہے اور مکمل طور پر ہاتھ سے لکھاگیا ہے۔ یہ ہاتھ کی تحریرکے وقار کو قائم کرنے کی ایک پہل ہے۔ وزیر خزانہ او پی چودھری نے اسے روایات کی طرف لوٹنے اور اصلیت کو فروغ دینے کی طرف ایک قدم قراردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں ہاتھ سے لکھا ہوا بجٹ پیش کرنا ایک الگ شناخت اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ چھتیس گڑھ اسمبلی میں اب تک صرف کمپیوٹر ٹائپ شدہ بجٹ پیش کیا جاتا تھا لیکن اس بار بجٹ روایتی اور منفرد انداز میں تیارکیا گیا۔ وزیر خزانہ او پی چودھری کا خیال ہے کہ اس سے صداقت اور شفافیت کو فروغ ملے گا۔انہوں نے اسے تاریخی لمحہ کہا۔