قومی سطح پر بی جے پی کو فائدہ ، مخالف این ڈی اے سیاسی جماعتوں کو نقصان ممکن
حیدرآباد۔ 5۔اکٹوبر(سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھرر اؤ قومی سطح پر ’’ووٹ کٹوا‘‘ ثابت ہوں گے یا قومی سطح پر متبادل بن کر ابھریں گے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن تلنگانہ راشٹر سمیتی قومی سیاست کا حصہ بننے کا فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ضرور ہوگا کیونکہ 2014 کے بعد سے جو حالات پیدا ہوئے ہیں ان حالات کا شکار ہر ہندستانی شہری بالخصوص جو بی جے پی کی حکمرانی کو مستقل دیکھنا چاہتے تھے وہ بھی ہونے لگے ہیں اور اب آئندہ انتخابات میں مخالف بی جے پی لہر کے امکانات پیدا ہونے لگے تھے۔ کے سی آر کی قومی سیاسی پارٹی کے قیام اور ملک کی بیشتر تمام ریاستوں سے انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلہ کے بعد مخالف بی جے پی ووٹ منقسم ہونے کا خدشہ ہے جو کہ بی جے پی کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ ہندستان میں کانگریس قائد راہول گاندھی نے کنیا کمار ی سے کشمیر تک ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ کے آغاز کے ذریعہ کانگریس کو نئے استحکام کی جو کوششیں کی ہیں ان کوششوں سے بی جے پی کو جو نقصان ہورہا ہے اس کا اندازہ لگایا جانے لگا ہے اور اب مخالف بی جے پی بات کی جانے لگی ہے لیکن ان مخالف بی جے پی ووٹ کو متحد ہونے سے روکنے کے لئے کی جانے والی بی جے پی کی کوششوں کے سلسلہ میں کہا جار ہاہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ان سیاسی جماعتوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے جو ریاستی و علاقائی سطح پر اثررکھتی ہیں۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے قومی سیاست کے منصوبہ کو بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جانے لگا ہے اورکہا جا رہاہے کہ کے سی آر بی جے پی کے دباؤ میں قومی سیاست میں حصہ لینے کے لئے آمادہ ہوچکے ہیں ۔تلنگانہ راشٹر سمیتی کو قومی سطح پر کوئی بڑی کامیابی حاصل ہوگی یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی ان کوششوں سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے مخالف ووٹ منقسم ہوں گے اور مخالف این ڈی سیاسی جماعتوں کو اس کا نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے ۔ ملک بھر کے وہ سرکردہ قائدین جو مخالف بھارتیہ جنتاپارٹی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اور مخالف بی جے پی ووٹ کو متحد کرنے کے لئے یو پی اے کو مستحکم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں ان سیاسی قائدین نے تلنگانہ راشٹر سمیتی سربراہ کی اس کوشش سے خود کو دور رکھتے ہوئے یہ تاثر دیا ہے کہ بی جے پی کا تنہاء مقابلہ ممکن نہیں ہے اور جو اس طرح کی کوشش کر رہے ہیں وہ دراصل بھارتیہ جنتا پارٹی کے مددکرتے ہوئے مخالف بی جے پی رائے دہندوں کو منقسم کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔م