چیف منسٹر ریلیف فنڈ درمیانی افراد کیلئے ذریعہ معاش!

   


مریضوں کا استحصال، اعلیٰ عہدیداروں کیساتھ بہتر تعلقات کے نام کمیشن وصولی

حیدرآباد : حکومت تلنگانہ کی جانب سے علاج و معالجہ پر فراہم کی جانے والی چیف منسٹر ریلیف فنڈ کی امداد درمیانی افراد کیلئے ذریعہ معاش بنتی جا رہی ہے اور چند لوگوں کی جانب سے مستحق افراد کا استحصال کرتے ہوئے ان سے سی ایم آر ایف کے ذریعہ علاج و معالجہ کے اخراجات کی اجرائی کے نام پر بڑے پیمانے پر وصولی کی جانے لگی ہے ۔ درمیانی افراد اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے ضرورتمندوں کا استحصال کرتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن شہریوں سے چندہ جمع کرتے ہوئے وہ ڈکار جانے کے بعد معصوم شہریوں کو لاکھوں روپئے کے علاج کے اخراجات کی سی ایم آر ایف کے ذریعہ ادائیگی کا جھانسہ دیتے ہوئے ان سے بھاری رقومات وصول کرنے کے واقعات منظر عام پر آنے لگے ہیں جبکہ سی ایم آر ایف کے ذریعہ دواخانہ میں علاج و معالجہ کیلئے ادا کی جانے والی رقومات کیلئے ریاستی حکومت بلکہ راست چیف منسٹر کی جانب سے منظوری عمل میں لائی جاتی ہے اور چیف منسٹر ریلیف فنڈ سے امداد کے حصول کے لئے ارکان اسمبلی و پارلیمان سفارش کرسکتے ہیں علاوہ ازیں سی ایم آر ایف کے ذریعہ کی جان والی مدد مستحقین اور ایسے غریب جن کے پاس سفید راشن کارڈ ہیں یا جن کی آمدنی سالانہ 60ہزار سے کم ہے ان کو دی جاتی ہے علاوہ ازیں جن لوگوں کے پاس آروگیہ شری کارڈ نہ ہویا اگر ہو بھی تو اس کے تحت مذکورہ علاج و معالجہ کی ادائیگی ممکن نہیں ہے تو ایسی صورت میں چیف منسٹر کو اس بات کا اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ اس مسئلہ پر غور کرتے ہوئے سی ایم آر ایف کے ذریعہ امداد جاری کریں۔حالیہ عرصہ میں شہر کے کئی علاقوں بالخصوص پرانے شہر کے علاقوںمیں بعض افراد کی جانب سے بھاری رقومات وصول کرنے اور سی ایم آر ایف کے ذریعہ دواخانہ کے اخراجات کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جانے کے نام پر وصولی کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں اور جو لوگ مریضوں کے رشتہ داروں سے بھاری رقومات وصول کر رہے ہیں وہ اعلی عہدیداروں کے نام بتاتے ہوئے انہیں نہ صرف دھوکہ دے رہے ہیں بلکہ انہیں یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ بااثر ہیں اور اندرون دو تا چار یوم ان کی درخواست پر چیف منسٹر کی جانب سے منظوری فراہم کردی جائے گی۔دونوں شہرو ںحیدرآباد و سکندرآباد میں اس طرح کی کئی شکایات موصول ہونے لگی ہیں اور کہا جا رہاہے کہ کورونا وائرس کے دور میں سی ایم آر ایف کے نام پر کئی مریضوں کے رشتہ داروں سے لاکھوں روپئے درمیانی افراد وصول کرچکے ہیں۔