مسلم تحفظات، حجاب اور مسلم محروس نوجوانوں کے مسائل پر بات چیت، مسلمانوں کے ساتھ مساوی انصاف کا تیقن
حیدرآباد: 20 جون (سیاست نیوز) چیف منسٹر کرناٹک سدا رامیا نے مسلم تحفظات کی بحالی کے لیے سپریم کورٹ میں زیر دوران مقدمہ میں حکومت کی جانب سے موثر پیروی کا تیقن دیا۔ انہوں نے بی جے پی دور حکومت میں فرقہ وارانہ فسادات کے دوران گرفتار کئے گئے مسلم نوجوانوں کی رہائی کے لیے حکومت کی سطح پر اقدامات کا بھروسہ دلایا۔ چیف منسٹر سدارامیا نے بینگلورو میں امیر شریعت مولانا مفتی صغیر احمد سے دارالعلوم سبیل الرشاد پہنچ کر ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیر اقلیتی بہبود ضمیر احمد خان، مولانا مقصود عمران، رکن اسمبلی رضوان احمد چیف منسٹر کے سیاسی مشیر نصیر احمد، رکن کونسل سلیم احمد اور سکریٹری آل انڈیا کانگریس کمیٹی منصور علی خان موجود تھے۔ چیف منسٹر کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد سدارامیا نے مفتی صغیر احمد سے ملاقات کی خواہش کی اور علماء کرام کے ساتھ مسلمانوں کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ مفتی صغیر احمد نے چیف منسٹر کو 4 فیصد مسلم تحفظات کی بحالی، مختلف اضلاع میں گرفتار کئے گئے بے قصور مسلم نوجوانوں کی رہائی اور عربی کالج کے قریب واقع میٹرو اسٹیشن کا نام عربی کالج اسٹیشن رکھنے کی نمائندگی کی۔ سدا رامیا نے مولانا صغیر احمد کی جانب سے پیش کردہ تمام امور پر ہمدردانہ غور اور کارروائی کا تیقن دیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کرناٹک میں تمام مذاہب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے گا اور کسی کے ساتھ جانبداری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ امیر شریعت کرناٹک نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ عیدالاضحی کے موقع پر جانوروں کی قربانی میں فرقہ پرست طاقتوں کی جانب سے رکاوٹ کا معاملہ بھی زیر بحث رہا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ پولیس کی جانب سے شرپسند عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔ سدا رامیا نے حجاب اور مسلم تحفظات پر سپریم کورٹ میں زیر دوران مقدمات کے سلسلہ میں ماہرین قانون سے مشاورت کا تیقن دیا۔ مولانا صغیر احمد کے مطابق بی جے پی دور حکومت میں تقریباً 40 سے زائد مسلم نوجوانوں کو سنگین الزامات کے تحت جیلوں میں بند کیا گیا ہے۔ انہوں نے کرناٹک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی و ترقی کے لیے دعا کی۔ چیف منسٹر کو بتایا گیا کہ ہبلی ضلع میں 150 مسلم نوجوان جیلوں میں بند ہیں، اس کے علاوہ الند شہر میں بھی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ 25 جون کو سپریم کورٹ میں مسلم تحفظات مقدمہ کی سماعت ہے اور وہ اس سلسلہ میں سرکاری وکلاء سے مشاورت کریں گے۔ سدا رامیا نے واضح کیا کہ ان کی حکومت مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات کی بحالی کے وعدے پر قائم ہے۔ تحفظات کے خاتمہ کے نتیجہ میں تعلیمی اداروں میں داخلے کے موقع پر مسلم طلبہ کو دشواریوں کے بارے میں چیف منسٹر کو واقف کرایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ سدا رامیا نے علماء کو تیقن دیا کہ ان کی حکوتم میں پولیس کی جانب سے مسلمانوں پر کوئی مظالم نہیں ہوں گے اور کرناٹک ظلم و تشدد اور فرقہ واریت سے پاک ریاست رہے گی۔ر