کراچی۔16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کے سابق اسپنر ثقلین مشتاق نے بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی اسپن بولنگ کے خلاف متعدد بیٹسمینوں کو تگنی کا ناچ پر مجبورکیا۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے لئے 400 سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں لیکن وہ ان وکٹوں میں سچن تندولکر کی وکٹ کو سب سے قیمتی قرار دیتے ہیں۔43 سالہ ثقلین مشتاق نے 1999 میں چینائی میں کھیلے گئے ٹسٹ میچ میں ماسٹر بلاسٹر سچن کی وکٹ حاصل کرنے سے متعلق اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سچن کو دوسرا پھینکنے میں ڈر لگتا تھا۔ سچن تنڈولکر کو کرکٹ کی تاریخ کے بہترین بیٹسمینوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے دو دہوں سے زیادہ عرصے تک اپنی بیٹنگ کے ذریعے بولروں پر قہر ڈھایا۔ پاکستان کے خلاف 1999 میں انہوں نے اپنی عمدہ بیٹنگ کی مہارت کا مظاہرہ کیا اور ٹیم کو ایک وقت 81 رنز پر پانچ وکٹ گنوانے کی صورتحال سے چھ وکٹ پر 218 تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے وکٹ کیپر نین مونگیا (52) کے ساتھ حیرت انگیز شراکت کی ، جس نے میزبان ٹیم کو فتح کے قریب پہنچا دیا۔ایسا لگتا تھا کہ سچن شاید اپنی ٹیم کو اکیلے ہی جیت کی منزل پر پہنچا دیں گے لیکن ایسا نہ ہو سکا کیونکہ ثقلین مشتاق نے انہیں کھیل کے اہم مرحلے پر آؤٹ کردیا۔ اس کے سبب ٹیم 258 کے اسکور پر آؤٹ ہوگئی اور میچ 12 رنز سے ہارگئی۔ ایک راست انسٹاگرام سیشن میں ثقلین مشتاق نے کہا کہ سچن تندولکر اس میچ میں اپنی بہترین کارکردگی کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ وہ حریف بولروں کو پڑھ کر آسانی سے گیند کے مقام کا اندازہ لگا رہے تھے ، جس کی وجہ سے وہ باؤنڈری اسکور کرنے میں کامیاب رہے۔ میچ کے ایک مرحلے پر ثقلین مشتاق ہندوستانی بیٹسمینوں کے خلاف دوسرا ڈالنے سے خوفزدہ ہوگئے ، کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ سچن دوسرا پر آسانی چوکا لگا دیں گے۔ ثقلین مشتاق نے براہ راست سیشن میں کو بتایا کہ بولنگ کے دوران مجھے چند چوکے کھانے پڑے ، لیکن آخرکار میں سچن کو آؤٹ کرنے میں کامیاب رہا۔ سچن کی آنکھیں تیز تھیں اور وہ بولروں کے ذہن میں چلنے والے منصوبوں کو پڑھ سکتے تھے۔ یہ بہت ڈراؤنا تھا۔ آپ یقین نہیں کریں گے لیکن میں انہیں دوسرا ڈالنے میں ڈر رہا تھا ، مجھے ڈرتھا کہ دوسرا گیند کا حشر کہیں چوکے یا چھکے کی شکل میں برآمد نہ ہو۔ ثقلین مشتاق نے مزید کہا اس ٹسٹ میں ماسٹر بلاسٹر کی وکٹ حاصل کرنے کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں تھا تاہم یہ ان کے مقدر میں پہلے ہی لکھا ہوا تھا ، لہذا وہ ایسا کرنے میں کامیاب رہے۔ آخر میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں اب بھی فخر محسوس ہوتا ہے کہ انہیں اس طرح کے سنسنی خیز ٹسٹ میچ میں سچن تندولکر کی وکٹ ملی۔ مجھے میری آخری سانس تک یہ قابل فخر کارنامہ یاد رہے گا۔