چینی دستوں کی سرحد پر سلاخوں کیساتھ نقل و حرکت

,

   

پروٹوکول کی لگاتار خلاف ورـزی ۔ گزشتہ ماہ بھی چینی فوجی آہنی سلاخوں اور پتھروں کیساتھ دیکھے گئے تھے

نئی دہلی : چائنیز پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے دستوں کو حقیقی خط قبضہ (ایل اے سی) کے مشرقی سیکٹر میں اس ہفتہ کے اوائل اپنی پیٹھ پر آہنی سلاخیں لے جاتے دیکھا گیا۔ جمعہ کو ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ اس سے ہندوستانی دفاعی انتظامیہ کے ایقان کی مکرر توثیق ہوتی ہیکہ پی ایل اے دستے بار بار پروٹوکول کی خلاف ورزی کرتے ہیں لیکن زخمی ہوجانے کی صورت میں ان کی آڑ لیتے ہیں۔ ذرائع کے حوالہ سے بتایا گیا کہ رواں ہفتہ کے اوائل چینی فوجیوں کی پیٹھ پر تھیلوں میں لوہے کی سلاخیں دیکھی گئیں جبکہ وہ اروناچل پردیش کے کامینگ سیکٹر میں ایل اے سی کے پاس ہندوستانی فوجیوں کے ساتھ متصادم تھے۔ پی ایل اے فوجی تیاری کے ساتھ آتے ہیں اور روزانہ پروٹوکول توڑتے ہیں کہ فوجی دستوں کا آمنا سامنا ہو تو طاقت کا استعمال نہیں کیا جائے گا لیکن جب وہ جھڑپ کی صورت میں زخمی ہوتے ہیں تو وہ ہندوستانی سپاہیوں پر غلط الزام عائد کرتے ہیں کہ انہوں نے پروٹوکول توڑا ہے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ اسی طرح پی ایل اے فوجی گزشتہ ماہ کے اوائل شمالی پشتہ پان گانگ سو پر جھڑپ کے دوران آہنی سلاخوں اور پتھروں سے لیس تھے۔ اگر پی ایل اے واقع پروٹوکول کی تعمیل کے تعلق سے سنجیدہ ہوتی تو اسے ذمہ داری کا تعین کرتے ہوئے اپنے ان کمانڈروں کے خلاف سخت کارروائی کرنا چاہئے جو اس طرح کے قابل اعتراض چالوں اختیار کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ 15 جون کو مشرقی وسطیٰ کی گلوان وادی میں کئی گھنٹے طویل جھڑپ کے نتیجہ میں چینی دستوں کے ہاتھوں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت ہوئی۔ اطلاعات کے معلوم ہوتا ہیکہ ہندوستانی دستوں نے آتشیں اسلحہ استعمال نہیں کئے حالانکہ وہ ان کے پاس دستیاب تھے لیکن ہندوستانیوں نے دونوں ملکوں کے درمیان دو باہمی معاہدوں کی مطابقت میں عمل کیا۔ اس کے برخلاف چینی دستوں نے ہندوستانی فوجیوں پر آہنی سلاخوں، پتھروں اور دیگر اشیاء کے ساتھ حملہ کیا۔ بعدازاں ہندوستان نے گلوان وادی میں اپنے فوجیوں کی ہلاکت کو چینی دستوں کی طرف سے پہلے سے منصوبہ بند کارروائی قرار دیا تھا۔ درحقیقت امریکی انٹلیجنس ایجنسیوں نے دعویٰ کیا ہیکہ ویسٹرن تھیٹر کمانڈ کے سربراہ جنرل ژاؤ ژونگی نے اس آپریشن کی منظوری دی تھی۔