بیجنگ: چین نے ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کے بعد لداخ میں ایک اور چوکی خالی کرنے پر رضامندی ظاہر کردی۔ خبررساں اداروں کے مطابق مشرقی لداخ میں فریقین کے درمیان ہفتے کے روز کشیدگی ختم کرنے کے لیے مذاکرات ہوئے تھے۔ اس دوران بیجنگ نے لائن آف ایکچول کنٹرول کی ایک پوسٹ سے اپنی فوجیں پیچھے کرنے پر آمادگی ظاہر کی،جس کے طریقہ کار پر غور شروع کردیا گیا ہے۔ ہندوستان اور چین میں شمال مشرقی علاقے سکم سے لے کر مشرقی لداخ تک تقریباً 3 ہزار کلو میٹر طویل سرحد پر تنازعہ ہے۔ گزشتہ برس 15جون کو مشرقی لداخ کی وادی گلوان میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوئی تھیں، جن میں بھارت کے 20اور چین کے 4فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت کا موقف ہے کہ ایل اے سی پر گزشتہ برس اپریل تک جو پوزیشن تھی، اس کو بحال کیا جائے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے دونوں ممالک کی فوجوں کو پہلے والی پوزیشن پر واپس چلے جانا چاہیے۔ ہندوستان میں اس حوالے سے بہت تشویش پائی جاتی ہے، تاہم حکومت کا رویہ محتاط ہے اور کسی سطح پر سخت بیان بازی سے گریز کیا جارہا ہے۔ بھارتی ذائع ابلاغ کے مطابق بات چیت کے دوران ایل اے سی پر پیٹرولنگ پوائنٹ 17 اے سے فوجیوں کو پیچھے ہٹانے پر اتفاق ہوا ہے۔ اس مقام کو گورگا پوسٹ بھی کہا جاتا ہے۔ فریقین کے درمیان پوسٹ 17 اے سے پیچھے ہٹنے پر تو اتفاق ہو گیا ہے، تاہم اسی علاقے میں چین نے ہاٹ اسپرنگ پندرہویں پوسٹ سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا ہے۔ چین کا دعویٰ ہے کہ پیٹرولنگ پوسٹ 15 اس کا علاقہ ہے۔