کورونا سے نمٹنے کے اقدامات پر عدالت کی ناراضگی، بلیٹن میں حقیقی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت
حیدرآباد۔ 18 جون (سیاست نیوز) ریاست میں کورونا وائرس کے کیسس سے نمٹنے کے معاملے میں حکومت کو پھر ایک بار ہائی کورٹ کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا۔ کورونا ٹسٹ کے معاملے میں ہائی کورٹ نے حکومت کو بعض ہدایات جاری کی ہیں۔ عدالت نے میڈیا بلیٹن میں کورونا سے متعلق تمام تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے موجودہ بلیٹن کی اجرائی کے طریقہ کار پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ ڈاکٹرس کو پی پی ای کٹس، مارکس اور حفاظتی آلات کی عدم فراہمی کی شکایت کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست کی سماعت کے دوران یہ ہدایات جاری کی گئیں۔ گزشتہ دو دن سے اس درخواست پر سماعت جاری رہی۔ ڈائرکٹر پبلک ہیلتھ سرینواس ریڈی اور گاندھی ہاسپٹل کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر راجہ رائو آج عدالت میں پیش ہوئے اور حکومت کی جانب سے کئے جارہے اقدامات واقف کرایا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ریاست میں جملہ 79 ڈاکٹرس کو کورونا پازیٹیو پایا گیا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ گاندھی ہاسپٹل نے بتایا کہ پلازما ٹسٹ کا تجربہ کیا جارہا ہے تاکہ وائرس پر قابو پایا جاسکے۔ عدالت نے حکومت کے وکیل کی سماعت کے بعد کہا کہ گریٹر حیدرآباد میں بلدی وارڈس کی بنیاد پر کورونا کیسس کی تفصیلات پیش کی جائیں۔ کورونا سے متاثرہ کالونیوں کی تعداد سے عدالت کو واقف کرایا جائے۔ عدالت نے کہا کہ انڈین کونسل فار میڈیکل ریسرچ نے ریاپڈ ٹسٹ کے سلسلہ میں جو گائیڈ لائینس جاری کئے ہیں اس پر عمل کیا جائے۔ ریاست بھر میں 54 ہاسپٹلس میں کورونا کا ٹسٹ کیا جارہا ہے جس کی تفصیلات کی تشہیر عوام میں کی جائے۔ حکومت سے دریافت کیا گیا کہ موبائل ٹسٹنگ کے سلسلہ میں اقدامات کیوں نہیں کئے گئے۔ گاندھی ہاسپٹل میں طبی عملے کے علاوہ پولیس کو حفاظتی کٹس فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی۔ عدالت نے کہا کہ خانگی ہاسپٹلس کے ملازمین کے لیے شفٹ سسٹم پر عمل کیا جائے اور ریاست میں کورونا ٹسٹ کی تعداد بڑھائی جائے۔ حکومت کو 29 جون تک تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت کو ملتوی کردیا گیا۔