کے سی آر ، ایٹالہ راجندر ، ریونت ریڈی جیسے قائدین کے ناموں کے اعلان کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل
حیدرآباد۔23۔اکٹوبر(سیاست نیوز) ڈبل انجن سرکار‘ ڈبل بیڈ روم فلیٹس کے بعد اب تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں ڈبل سیٹ سے مقابلہ کا دور چل رہا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے حلقہ اسمبلی گجویل کے ساتھ ساتھ حلقہ اسمبلی کاماریڈی سے مقابلہ کے اعلان کے بعد بیشتر تمام سرکردہ سیاسی قائدین اپنے حلقہ اسمبلی کے علاوہ دیگر حلقہ جات اسمبلی سے مقابلہ کرنے لگے ہیں۔ بھارت راشٹرسمیتی سے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے حلقہ اسمبلی گجویل اور حلقہ اسمبلی کاماریڈی سے مقابلہ کا اعلان کرنے کے بعد گذشتہ یوم بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کی گئی جس میں رکن اسمبلی ایٹالہ راجندرکوان کے اپنے حلقہ اسمبلی حضورآباد کے علاوہ چیف منسٹر کے حلقہ اسمبلی گجویل سے امیدوار بنایا گیا ہے ۔ بھارت راشٹرسمیتی کے سربراہ کے سی آر کے دو حلقہ جات اسمبلی سے مقابلہ کے اعلان اور ایٹالہ راجندر کو دو نشستوں پر امیدوار بنائے جانے کے بعد اب کہا جا رہاہے کہ صدرپردیش کانگریس مسٹر اے ریونت ریڈی بھی اپنے حلقہ اسمبلی کوڑنگل کے علاوہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے خلاف حلقہ اسمبلی کاماریڈی سے امیدوار بنائے جاسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ریاست تلنگانہ میں کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان جاری دو رخی مقابلہ کو سہ رخی قرار دینے کی کوشش میں بی جے پی اپنے قائدین کو قربان کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن ریاست میں انتخابات کا ماحول کافی دلچسپ ہوتا جا رہاہے ۔ بی آر ایس پارٹی ذرائع کی جانب سے کئے جانے والے دعوے میں کہا جا رہاہے کہ چیف منسٹر نے دو نشستوں سے مقابلہ کے اعلان کے ذریعہ دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین کے درمیان جو ہلچل پیدا کی ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ کانگریس اور بی جے پی اپنے قائدین کو دو نشستوں سے مقابلہ کروارہے ہیں جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ رکن اسمبلی ایٹالہ راجندر نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے خلاف مقابلہ کا اعلان کیا تھا اور اس بناء پر وہ اپنی خواہش سے حلقہ اسمبلی حضورآباد کے علاوہ حلقہ اسمبلی گجویل سے مقابلہ کر رہے ہیں ۔ کانگریس قائدین کا کہناہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کاماریڈی سے کانگریس کے مسلم امیدوار کی شکست کو یقینی بنانے کے لئے جس انداز میں گجویل کے علاوہ کاماریڈی سے مقابلہ کا اعلان کیا ہے اسی لئے کانگریس نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے چیف منسٹر کے خلاف مضبوط امیدوار کو ان کے خلاف میدان میں اتارنے کا ذہن بنایا ہے۔