درخواست گذاروں کا دفتر بلدیہ پر زبردست احتجاج
حیدرآباد۔5۔جولائی(سیاست نیوز) ڈبل بیڈ روم فلیٹس اور مکانات کے حصول کے لئے درخواستیں داخل کرنے والے درخواست گذار اپنی درخواستوں کی یکسوئی کے سلسلہ میں احتجاج پر مجبور ہوچکے ہیں اور حکومت کی جانب سے ڈبل بیڈ روم اسکیم کے تحت وصول کی گئی درخواستوں کی یکسوئی کے معاملہ میں کوتاہی سے کام لے رہی ہے۔مجلس بلدیہ عظیم ترحیدرآباد کے حدود میں ریاستی حکومت کی جانب سے 1لاکھ سے زائد ڈبل بیڈ روم فلیٹس اور مکانات کی تعمیر اور حوالگی کے دعوے کئے جا رہے ہیں لیکن لاکھوں درخواست گذار جو جی ایچ ایم سی کے دفتر پر احتجاج کے لئے پہنچے تھے نے الزام عائد کیا کہ ڈبل بیڈ روم فلیٹس اور مکانات کی حوالگی کے معاملہ میں حکومت کی جانب سے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے اس میں بدعنوانیاں کی جا رہی ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ جی ایچ ایم سی حدود میں مجموعی طور پر 7لاکھ درخواستیں ڈبل بیڈ روم فلیٹس اور مکانات کے وصول کی گئی تھیں اور ان میں ایک لاکھ تک ڈبل بیڈ روم فلیٹس حوالہ کئے جانے کے دعوے کئے جا رہے ہیں جبکہ دونوں شہروں کے کئی مقامات پر اب تک بھی ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی تعمیر مکمل نہیں ہوپائی ہے اور بیشتر درخواست گذارجو کہ سیاسی سرپرستی کے علاوہ اثر و رسوخ کے حامل ہیں وہ اپنی درخواستوں کی یکسوئی کروانے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ شہر کے کئی مقامات پر جہاں ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی تعمیر عمل میں لائی گئی ہے ان مقامات پر فلیٹس کی حوالگی کے معاملہ میں جی ایچ ایم سی عہدیداروں کی بدعنوانیاں اور بے قاعدگیاں عروج پر ہیں اور وہ درخواست گذاروں سے بھاری رقومات کا مطالبہ کرتے ہوئے انہیں فہرست میں برقرار رکھنے کا تیقن دے رہے ہیں جبکہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے کئے جانے والے دعوؤں میں کہا جا رہاہے کہ ریاستی حکومت نے ڈبل بیڈ روم فلیٹس کے لئے جو طریقہ کار اختیار کیا ہے وہ نقائص سے پاک ہے لیکن بائیں بازو جماعتوں کی تائید کے ساتھ جی ایچ ایم سی کے صدر دفتر پر کئے گئے احتجاج میں شامل افراد نے جی ایچ ایم سی عہدیداروں پر الزام عائد کیا کہ عہدیدار محض ان درخواست گذاروں کی درخواستوں کی یکسوئی کر رہے ہیں جن درخواست گذاروں کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے اور جو عہدیداروں کے مطالبات پورے کر رہے ہیں۔م