نئی دہلی۔ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کو آئی سی سی ورلڈ ٹسٹ چمپئن شپ کے فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ اس شکست کے بعد ٹیم کے کوچ راہول ڈراویڈ اورکپتان روہت شرما ناقدین کے نشانے پر آگئے، دونوں پر کڑی تنقید کی جارہی ہے۔ دریں اثناء جنوبی افریقہ کے سابق کپتان گرائم اسمتھ نے دونوں کی حمایت کی ہے۔ اسمتھ نے کہا کہ ڈراویڈ بہت اچھے کھلاڑی رہے ہیں اور انہیں بطورکوچ وقت دینا چاہیے۔ دوسری جانب روہت کے حوالے سے اسمتھ نے کہا ہے کہ انہیں ریفریش بٹن دبانا چاہیے۔ہندوستانی ٹیم سے امید کی جارہی تھی کہ یہ ٹیم ٹسٹ چمپئن شپ کے فائنل میں زبردست کھیل دکھائے گی اور ٹیم ہندوستان کے 10 سال پرانے آئی سی سی ٹرافی کا خشک سالی ختم کردے گی لیکن ایسا نہیں ہوا اور آسٹریلیا نے ہندوستان کو 209 رنز سے شکست دی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسمتھ نے کہا ہے کہ جب کوئی ہندوستانی کرکٹ میں قیادت کے کردار میں آتا ہے تو اس سے بہت سی توقعات وابستہ کی جاتی ہیں۔ اسمتھ نے کہا کہ ہندوستان کے پاس اتنے عظیم کھلاڑی ہیں کہ وہ دو سے تین ٹیموں کو میدان میں اتار سکتا ہے لیکن ہندوستان میں سب سے بڑا چیلنج ان سب کو متوازن کرنا ہے اور ڈراویڈ کے ساتھ سلیکٹرزکو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ یہ ٹیمیں کیسے کھیلیں گی، کیا کریں گی۔ کہ ڈراویڈ نے بطور کوچ اچھا کام کیا ہے، اس لیے انہیں کافی مواقع ملنے چاہئیں تاکہ وہ ہندوستانی ٹیم کی تعمیر نوکر سکیں۔روہت کو دوڑنا پڑے گا۔روہت پر اس وقت کافی تنقید بھی ہو رہی ہے۔ اسمتھ نے روہت کے بارے میں کہا ہے کہ بطور کپتان کھلاڑی کا سب سے بڑا چیلنج ان کی اپنی کارکردگی ہے۔ اسمتھ نے کہا کہ روہت کو ریفریش بٹن دبانا پڑے گا کیونکہ وہ طویل عرصے سے رنزکے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر روہت نے کچھ رنز بنائے تو ان پر سے دباؤ دور ہو جائے گا۔ڈراویڈ نے جب بطور کوچ ٹیم کی باگ ڈور سنبھالی تو ایسا لگ رہا تھا کہ ٹیم کی تصویر ہی بدل جائے گی۔ آئی سی سی ٹرافی ٹیم انڈیا کے پاس آئے گی اور 2013 سے جاری خشک سالی ختم ہو جائے گی۔ ایسا کچھ نہیں ہوا، ڈراویڈ سے یہ توقعات اس لیے تھیں کہ بطور کوچ انھوں نے ملک کی جونیئر ٹیموں کے ساتھ اچھا کام کیا ہے۔