ڈرینج لائنوں کی صفائی میں مزدوروں کی اموات پر ہائی کورٹ متحرک

   

میڈیا رپورٹ مفاد عامہ کی درخواست تبدیل، چیف سکریٹری اور عہدیداروں کو نوٹس
حیدرآباد۔9۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) شہر میں ڈرینج لائنوں کی صفائی کے دوران مزدوروں کی موت کے واقعات کا سختی سے نوٹ لیتے ہوئے تلنگانہ ہائی کورٹ نے میڈیا رپورٹس پر از خود کارروائی کرتے ہوئے مفاد عامہ کی درخواست میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس مسئلہ کو سماعت کے لئے چیف جسٹس کے بنچ سے رجوع کیا گیا ۔ جسٹس اجل بھویاں نے کونڈہ پور اپارٹمنٹ کے سپٹک ٹینک میں حال ہی میں صفائی کے دوران دو مزدوروں کی موت سے متعلق میڈیا رپورٹ کو ہائی کورٹ کی مفاد عامہ درخواستوں کی کمیٹی سے رجوع کیا۔ تاکہ اسے چیف جسٹس کے اجلاس پر پیش کیا جائے۔ چیف جسٹس ستیش چندر شرما نے مفاد عامہ کی درخواست کے طور پر سماعت سے اتفاق کرلیا ہے ۔ جسٹس بھویاں نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ملازمین کو سپٹک ٹینک کی صفائی کے لئے روانہ کرنے سے قبل احتیاطی تدابیر کی کمی ہے جس کے نتیجہ میں صفائی ورکرس کی موت واقع ہورہی ہے ۔ عدالت نے بلدی عہدیداروں سے صفائی کے دوران فوت ہونے والے ورکرس کے پسماندگان کو 10 لاکھ روپئے معاوضہ کی ادائیگی کے بارے میں وضاحت طلب کی ۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں صفائی عملہ کے افراد خاندان کی امداد کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں پر عائد کی ہے ۔ حکام سے سوال کیا گیا کہ آیا سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق صفائی عملہ کے بارے میں آیا کوئی سروے کیا گیا۔ مفاد عامہ کی درخواست میں چیف سکریٹری ، پرنسپل سکریٹری بلدی نظم و نسق ، کمشنر جی ایچ ایم سی ، کمشنر لیبر ڈپارٹمنٹ ، ضلع کلکٹر ملکاجگری اور مینجنگ ڈائرکٹر حیدرآباد میٹرو واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کو فریق بنایا گیا۔ ر