ڈسمبر میں گریٹر حیدرآباد بلدی انتخابات کی تیاریاں

   

ترقیاتی پراجکٹس میں تیزی، 110 بلدی وارڈز پر ٹی آر ایس کی نظر
حیدرآباد۔/6 جون، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس حکومت نے گریٹر حیدرآباد کے حدود میں ترقیاتی پراجکٹس کی عاجلانہ تکمیل کے منصوبہ کے ساتھ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ حیدرآباد کو عالمی شہر کا درجہ دینے کا وعدہ کرتے ہوئے فلائی اوورس جنکشنس اور سڑکوں کی تعمیر کا بڑے پیمانے پر آغاز کیا گیا ہے۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی میعاد فبروری 2021 کو ختم ہورہی ہے اور حکومت جاریہ سال ڈسمبر یا پھر آئندہ سال جنوری میں انتخابات کے انعقاد کا منصوبہ رکھتی ہے۔ گذشتہ انتخابات میں ٹی آر ایس کو 99 نشستیں حاصل ہوئی تھیں جبکہ اس کی حلیف جماعت کو 44 نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔ بی جے پی کو 4 اور کانگریس کو 2 جبکہ تلگودیشم کو ایک نشست حاصل ہوئی۔ ترقیاتی سرگرمیوں کے اعتبار سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ ٹی آر ایس انتخابی موڈ میں ہے۔ کارپوریشن کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے قرارداد منظور کرتے ہوئے پراپرٹی ٹیکس کا 80 فیصد سود معاف کرنے کی سفارش کی ہے جوکہ 800 کروڑ روپئے ہوتے ہیں۔ 2019-20 تک کے پراپرٹی ٹیکس پر سود معاف کرتے ہوئے رائے دہندوں کو لُبھانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ گذشتہ چند ماہ سے گریٹر حیدرآباد کے حدود میں مختلف ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا گیا۔ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ترقیاتی کاموں میں تیزی پیدا کی گئی۔ گذشتہ چند برسوں میں جی ایچ ایم سی نے شہر میں 30 ہزار کروڑ مالیاتی ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا۔ میئر حیدرآباد بی رام موہن نے دعویٰ کیا ہے کہ حیدرآباد کو عالمی معیار کی سہولتوں سے آراستہ کیا جائے گا۔ ٹی آر ایس کے ذرائع کے مطابق پارٹی 110 بلدی وارڈز پر توجہ مرکوز کرچکی ہے۔اُسے یقین ہے کہ ترقیاتی کاموں کے نتیجہ میں پارٹی کو شاندار کامیابی حاصل ہوگی۔