حکومت کو ایک ماہ کا الٹی میٹم ، محمد علی شبیر کی قیادت میں پارٹی کارکنوں کا احتجاجی دھرنا
حیدرآباد ۔ 6 جون ۔ ( سیاست نیوز ) کانگریس کے سینئر قائد سابق وزیر محمد علی شبیر نے سینکڑوں کانگریس پارٹی ورکرس کے ساتھ دوماکنڈہ گورنمنٹ ہاسپٹل ضلع کاماریڈی میں احتجاجی دھرنا منظم کیا اور صحت کی سہولیات میں فوری اپ گریڈ کرنے کے ساتھ ساتھ بہتری لانے کا مطالبہ کیا ۔ محمد علی شبیر نے یکم جولائی تک ہاسپٹل کو 100 بستروں کے ہاسپٹل میں اپ گریڈ نہ کرنے پر بھوک ہڑتال شروع کردینے کا انتباہ دیا ۔محمد علی شبیر نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ حکومت دیہی علاقوں کے عوام کو معیاری طبی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے ۔ غریب عوام کیلئے طبی سہولتوں کو نظرانداز کررہی ہے ۔ انھوںنے دوماکنڈہ کمیونٹی ہیلتھ سنٹر (CHC) کو فوری اپ گریڈ کرتے ہوئے مقامی عوام کو بہتر طبی سہولتیں فراہم کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔ کانگریس کے قائد نے ایمبولینس کیلئے ڈرائیور کی عدم موجودگی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے بطور احتجاج ہاسپٹل کے احاطے میں کھڑی ایمبولینس پر پھول نچھاور کئے اور ناریل بھی پھوڑا ۔ احتجاج کے دوران کئی دیگر مسائل کو بھی منظرعام پر لایا گیا ۔ نوتعمیرشدہ پوسٹ مارٹم وارڈ تین سال سے غیرکارکرد ہے ۔ ہاسپٹل کے قریب آر ٹی سی بس اسٹانڈ کو بھی کوئی اپ گریڈ نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید تکلیف ہورہی ہے ۔ بس اسٹانڈ میں بیت الخلاء کے ساتھ عوام کو پینے کے پانی کی بھی مناسب سہولت نہیں ہے ۔ ہاسپٹل کیلئے 13 ڈاکٹرس کی منظوری ہے فی الحال صرف 3 ڈاکٹر ہی طبی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ محمد علی شبیر نے کہاکہ دوماکنڈہ ہاسپٹل کو 100 بستروں کے ہاسپٹل میں تبدیل کرنے سے اسمبلی حلقہ کاماریڈی کے بی بی پیٹ ، دوما کنڈہ ، ماچاریڈی اور بھکنور منڈلوں کے عوام کے ساتھ ساتھ اضلاع سرسلہ ، سدی پیٹ کے مریضوں کو بھی فائدہ ہوگا ۔ انھوں نے کاماریڈی ڈسٹرکٹ سنٹرل ہاسپٹل کو ڈائریکٹوریٹ آف میڈیکل ایجوکیشن ( ڈی ایم ای ) سے جوڑنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ن