ڈیجیٹل گرفتاری معاملہ پر سپریم کورٹ کا مرکزی حکومت سے جواب طلب

   

نئی دہلی، 17 اکتوبر (یو این آئی) سپریم کورٹ نے ڈیجیٹل گرفتاری گھوٹالے کے معاملے میں جمعہ کے روز مرکزی حکومت، مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) اور دیگر کو نوٹس جاری کیا۔جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوائے مالیا باگچی کی بینچ نے کئی سینئر شہریوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی کے فراڈ سے متعلق معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے مرکز، سی بی آئی اور دیگر سے جواب طلب کیا۔بینچ نے اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمنی سے درخواست کی کہ وہ ملک بھر میں اس قسم کے جرائم کے وقوع پذیر ہونے کے طریقوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت کی معاونت کریں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ از خود نوٹس ایک رٹ پٹیشن پر لیا گیا ہے ، جو امبالہ کے ایک سینئر شہری جوڑے کی شکایت پر دائر کی گئی تھی۔اس جوڑے کی زندگی بھر کی جمع پونجی تین ستمبر 2025 سے 16 ستمبر 2025 کے دوران ہونے والے ڈیجیٹل گرفتاری گھوٹالے کے ذریعے دھوکہ دے کر لے لی گئی تھی۔ بینچ نے کہا کہ متاثرین نے بتایا ہے کہ سی بی آئی کے افسران اور دیگر افسران کے بھیس میں ان سے ٹیلی فون اور ویڈیو کال کے ذریعے رابطہ کیا گیا۔
دھوکے بازوں نے واٹس ایپ اور ویڈیو کانفرنس کے ذریعے سپریم کورٹ کے احکامات دکھائے اور گرفتاری، جائیداد ضبط کرنے کا خوف دلایا، اورمتاثرین سے کئی بینکوں کے ذریعے ایک کروڑ 50 لاکھ روپے منتقل کروائے ”۔