ڈی اروند خبردار، کانگریس میں تمہاری پیدائش ہوئی: محمد علی شبیر

   


کانگریس کے بارے میں اظہار خیال کے وقت زبان قابو میں رکھنے کا مشورہ، ہلدی بورڈ پر وعدہ کا کیا ہوا
حیدرآباد۔ سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے نظام آباد کے بی جے پی رکن پارلیمنٹ ڈی اروند کو انتباہ دیا کہ وہ کانگریس کے بارے میں اظہار خیال کے وقت زبان قابو میں رکھیں ورنہ کانگریس پارٹی سبق سکھانا جانتی ہے۔ آرمور میں رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی کے ہمراہ ہلدی کے کسانوں کے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے ڈی اروند پر سخت تنقید کی اور کہا کہ انتخابات میں کامیابی کیلئے ہلدی بورڈ کے قیام کا وعدہ کیا گیا اور اروند نے کسانوں کو اسٹامپ پیپر پر لکھتے ہوئے وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اروند کہاں غائب ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈی اروند کانگریس میں پیدا ہوئے اور کانگریس کے پیسہ سے ان کا فروغ ہوا اُن کی رگوں میں کانگریس کا خون دوڑ رہا ہے جس وقت اروند اے بی سی ڈی سیکھ رہے تھے اُن کی زبان پر کانگریس زندہ باد کا نعرہ تھا لیکن اب بی جے پی میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے بڑی بڑی باتیں کررہے ہیں۔ محمد علی شبیر نے سوال کیا کہ کیا اروند اتنے مرد بن چکے ہیں کہ کانگریس کو سوال کرسکیں۔ کانگریس میں کیا دم ہے کہنے والے اروند کانگریس کی طاقت سے واقف نہیں۔ کانگریس آج بھی اروند کو فٹبال بناسکتی ہے اور پتہ نہیں چلے گا کہ اروند کہاں گئے۔ جس زبان سے کانگریس کے خلاف الفاظ استعمال کئے جارہے ہیں کانگریس زبان قلم کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ انہوں نے اروند کو خبردار کیا کہ وہ اپنی زبان سنبھال کر بات کریں۔ محمد علی شبیر نے پوچھا کہ ہلدی بورڈ کے قیام کیلئے اسٹامپ پیپر پر کئے گئے وعدہ کا کیا ہوا۔ انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ ہلدی بورڈ کے بارے میں اروند جہاں کہیں نظر آئیں گریبان پکڑ کر سوال کریں۔