ایودھیا گینگ ریپ کا نیا موڑ
لکھنو : 29جنوری ( ایجنسیز ) ایودھیا ضلع میں 12 سالہ لڑکی کے مبینہ اجتماعی عصمت ریزی کے واقعہ میں سماج وادی پارٹی کے لیڈر معید خان کو بری کردیا۔ سماج وادی پارٹی کے قائد معید خان، جو اس کیس کے دو ملزمین میں سے ایک تھے، کو عدالت نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا۔۔ تاہم ایودھیا کی خصوصی عدالت (پوکسو ایکٹ) کی جج نروپما وکرم نے شریک ملزم راجو خان کو، جو ایس پی قائد کا ملازم تھا، قصوروار قرار دیا۔ عدالت راجو خان کے خلاف سزا کی مدت کا اعلان باقی ہے۔یہ فیصلہ اس مقدمہ میں سنایا گیا جو 29 جولائی 2024 کو پورا کلندر پولیس اسٹیشن میں نابالغ متاثرہ لڑکی کی والدہ کی شکایت پر درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں 71 سالہ ایس پی قائد معید خان اور ان کے ملازم کے خلاف اجتماعی عصمت دری، مجرمانہ دھمکیاں اور پوکسو ایکٹ کے تحت الزامات عائد کئے گئے تھے۔سماعت کے دوران استغاثہ نے 14 گواہوں کے بیانات قلمبند کروائے، جن میں نابالغ لڑکی، اس کی والدہ، میڈیکل ایگزامینر اور تفتیشی افسر شامل تھے، جبکہ صفائی نے زیادہ تر دستاویزی شواہد پر انحصار کیا۔ فیصلے میں فارنسک رپورٹ ایک اہم نکتہ رہا۔ تفتیش کے دوران دونوں ملزمین کے ڈی این اے نمونے جانچے گئے۔ عدالت کے مطابق معید خان کا ڈی این اے جائے واردات سے حاصل شدہ فرانزک نمونوں سے میل نہیں کھاتا، جبکہ راجو خان کا ڈی این اے میچ ہوا۔ اسی بنیاد پر عدالت نے معید خان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔