کابل دھماکہ : ہلاکتوں کی تعداد 55 ہوگئی ، امریکہ کی مذمت

,

   

کابل : افغانستان کے دارالحکومت کابل کے اسکول کے باہر کار بم دھماکے اور مارٹر حملے میں کم از کم 55 افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہو گئے۔خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق زخمیوں میں زیادہ تر طالبات شامل ہیں اور افغان صدر اشرف غنی نے اس حملے کا الزام طالبان پر عائد کیا ہے۔یوروپی یونین (ای یو) اورامریکہ نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں لڑکیوں کے اسکول میں ہوئے بم دھماکے کی شدید مذمت کی ہے ۔ کابل کے سید الشہدا اسکول میں ہفتے کے روز ہوئے بم دھماکے سے کم از کم 53 افراد ہلاک اور 151 زخمی ہوگئے تھے ۔یورپی یونین کے ایکسٹرنل آپریشن سروس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ‘‘یوروپی یونین افغانستان میں خوفناک دہشت گردانہ حملے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتا ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسکول میں بچوں پر حملہ نہ صرف افغان آبادی پر بلکہ دنیا بھر میں ان سبھی پر حملہ کیا ہے ، جو خواتین اور لڑکیوں کے مساوی حقوق کا احترام کرتے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے افغانستان کے اسکول پر ہونے والے وحشیانہ حملے کی مذمت کی اورمعصوم شہریوں پر حملے اور تشدد کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ وزارت نے ان بم دھماکوں کو افغانستان کے مستقبل پر حملہ قرار دیا۔ کابل میں اسکول پر حملے کی کسی بھی دہشت گردانہ تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے ، تاہم افغان صدر اشرف غنی نے طالبان باغیوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ ملک میں تشدد بڑھانے کا الزام لگایا ۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملے میں طالبان جنگجوؤں کے ملوث ہونے انکار کرتے ہوئے داعش کے عسکریت پسند گروپ (روس میں کالعدم قرار) پر بم دھماکہ کرنے کا الزام لگا یا ہے ۔