تمام بینکوں کو بلاسودی کاروبار کی ہدایت، اسلامک بینک آف افغانستان کی کارکردگی میں اضافہ
بینک کے صدر اور سی ای او سید موسیٰ کلیم کا حیدرآباد سے تعلق
حیدرآباد۔2 ۔ستمبر (سیاست نیوز) افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد کابل میں عام زندگی بتدریج بحال ہورہی ہے اور دو ہفتوں کے بعد بینکوں کی کشادگی عمل میں آئی ۔ بینکنگ سرگرمیوں کے احیاء کے نتیجہ میں بینکوں پر رقومات کے حصول کے لئے زبردست ہجوم دیکھا جارہا ہے ۔ افغانستان کے سنٹرل بینک جسے ریزرو بینک بھی کہا جاسکتا ہے، اس نے وڈرال کی حد 10,000 روپئے مقرر کی ہے۔ اسلامک بینک آف افغانستان ملک کا واحد اسلامی بینک ہے اور موجودہ حکومت کے احکامات کے مطابق تمام دوسرے بینکوں کو بھی اسلامک بینکنگ اختیار کرنی ہوگی۔ اسلامک بینک آف افغانستان کے صدر اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر سید موسیٰ کلیم فلاحی کا تعلق حیدرآباد سے ہے اور وہ مختصر دورہ پر شہر میں موجود ہیں۔ آندھراپردیش قانون ساز اسمبلی کے سابق سکریٹری اور جماعت اسلامی کے سابق سکریٹری جناب سید یوسف مرحوم کے فرزند ہیں۔ سید موسیٰ کلیم نے 2019 ء میں اسلامک بینک آف افغانستان کے صدر و چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ کی ذمہ داری سنبھالی جبکہ اپریل 2018 ء میں بینک کا آغاز ہوا ۔ اس سے قبل وہ دبئی اور قطر اسلامک بینکس میں تقریباً دو دہوں تک نمایاں خدمات کا تجربہ رکھتے ہیں ۔ سید موسیٰ کلیم نے بتایا کہ کابل میں طالبان کے داخلہ کے بعد غیر یقینی صورتحال تھی جس کے نتیجہ میں بینکوں کو بند کردیا گیا تھا ۔ امریکی افواج کی واپسی کے بعد موجودہ حکمرانوں سے باقاعدہ سیکوریٹی حاصل کرنے کے بعد سنٹرل بینک آف افغانستان نے بینکوں کو کشادگی کا مشورہ دیا ہے۔ بینک کی تقریباً 60 برانچس ہیں اور ملازمین کی تعداد 900 سے زائد ہے۔ دیگر کمرشیل بینکوں کی طرح اسلامک بینک آف افغانستان کے اے ٹی ایم اور دیگر خدمات نے کسٹمرس کی مقبولیت حاصل کرلی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلاسودی بینکنگ سے عوام کی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجہ میں انتہائی کم عرصہ میں اسلامک بینک آف افغانستان منافع بخش ادارہ میں تبدیل ہوگیا۔ سید موسیٰ کلیم کے مطابق آئندہ چند ماہ میں افغانستان میں بینکنگ سرگرمیاں وسعت اختیار کریں گی اور امکان ہے کہ سرکاری اور خانگی بینکس بتدریج خود کو بلا سودی بینکنگ میں تبدیل کریں گے۔ موسیٰ کلیم نے کہا کہ طالبان کے تبدیل شدہ موقف اور شدت پسندی میں کمی کا عوام کی جانب سے خیرمقدم کیا جارہا ہے ۔ ابتداء میں لوگ بڑی تعداد میں دیگر ممالک کو منتقلی کی کوشش کر رہے تھے ، لیکن حکومت کے اعلانات کے بعد صورتحال بتدریج معمول پر آرہی ہے۔ اسلامک بینک آف افغانستان میں ہندوستان سے تعلق رکھنے والے کئی ملازمین ہیں۔ بینک کے بانی اور صدر کا ہیڈکوارٹر دبئی میں ہے جہاں سے بینک کے امور کی نگرانی کی جاتی ہے ۔ R