دواخانوں میں فیس کے تعین کا جائزہ ، مختلف ٹیمیں حیدرآباد اور اضلاع کے دواخانوں کے دورہ پر
حیدرآباد۔کارپوریٹ دواخانوں کی من مانی کے خلاف کاروائی کا آغاز ہوچکا ہے اور عہدیدارو ں کی جانب سے کارپوریٹ دواخانوں کی من مانی کے خلاف موصول ہونے والی شکایات کا جائزہ لیا جارہا ہے کیونکہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے احکام جاری کرتے ہوئے کارپوریٹ و خانگی دواخانہ میں کورونا وائرس کے علاج و معالجہ کیلئے قیمتوں کا تعین کیا گیا تھا اور دواخانوں کے انتظامیہ کو اس با ت کی ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ان قیمتوں کو دواخانہ میں واضح طور پر لگائیں لیکن اس کے باوجود شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے دیگر شہروں میں موجود دواخانو ںمیں کی جانے والی من مانی اور بے تحاشہ رقومات کی وصولی کی شکایات کے بعد ریاستی حکومت نے متعلقہ عہدیداروں اور ضلعی عہدیداروں کو اس بات کی ہدایت دی ہے کہ وہ ان دواخانوں میں علاج کی سہولتوں کا جائزہ لیں جن کے خلاف شکایات موصول ہورہی ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے احکامات کی اجرائی کے باوجود ان پر عمل نہ کئے جانے کے علاوہ وباء کے ہنگا می دور میں عوام سے علاج کے لئے بے دریغ رقومات کی وصولی کے دفعات کے تحت ان دواخانوں کے خلاف کاروائی کی جاسکتی ہے جو کہ بے تحاشہ بل وصول کر رہے ہیں۔ریاستی حکومت کی جانب سے خانگی دواخانو ںمیں کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کی اجازت فراہم کئے جانے کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس میں سینکڑوں کی تعداد میں مریضوں کے رشتہ داروں کی جانب سے دواخانوں کے بلس کے متعلق شکایات موصول ہورہی ہیں۔ علاوہ ازیں شہر حیدرآباد کے بعض کارپوریٹ دواخانوں میں صورتحال انتہائی ابتر ہے اور کہا جا رہاہے کہ ان دواخانو ںمیں روم یا آئی سی یوکے بجائے راہداریوں میں بھی مریضوں کا علاج کیا جانے لگا ہے۔ ان شکایات کے موصول ہونے کے بعد ریاستی حکومت کے محکمہ صحت کے علاوہ ویجلنس کی جانب سے ان دواخانوں کی تفصیلات اور دواخانو ںمیں موجود مریضوں کی شکایات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور انہیں ضلع انتظامیہ کو روانہ کرتے ہوئے دواخانوں کے خلاف کاروائی کی ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔ ہنگامی حالات سے متعلق قوانین کے مطابق حکومت کے احکامات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں ان دواخانوں کے انتظامیہ پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کے علاوہ دواخانہ کو سرکاری نگرانی میں لئے جانے کی بھی گنجائش موجود ہے۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق حکومت کی مختلف ٹیموں کو شہر کے کئی دواخانوں کو روانہ کیا جارہا ہے تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جاسکے کہ کورونا وائرس کے علاج کے لئے حکومت کی جانب سے مختص کردہ رقومات میں علاج کیا جارہا ہے یا اس سے زیادہ قیمتیں وصول کی جا رہی ہیں۔ علاوہ ازیں شہر حیدرآباد کے دواخانوں میں حکومت کی جانب سے تعین کردہ علاج کی قیمتوں کو ڈسپلے کیا گیا ہے یا نہیں یہ ٹیم کے ارکان جائزہ لینے کے بعد ضلع انتظامیہ کو رپورٹ پیش کریں گے۔