Saturday , December 5 2020

کار کا ہارن خود بخود بجنا بند ہوجائے تو !

تلنگانہ / اے پی ڈائری خیر اللہ بیگ
بی جے پی نے تلنگانہ میں ٹی آر ایس کو اس کی اوقات دکھانے کا عہد کیا ہے اس لیے حالیہ میونسپل انتخابات میں ٹی آر ایس کو بھاری اکثریت سے کامیابی کی امیدوں کو دھکہ پہونچایا ۔ ٹی آر ایس حکومت چل رہی ہے حکمت سے ، لیکن اس کی منہ بولی دوست پارٹی نے بلدی انتخابات میں اپنے امیدواروں کو کھڑا کر کے کئی سیکولر ووٹ کاٹ دئیے جس کا راست فائدہ بی جے پی کو ہوا یہ ہے منہ بولی دوست پارٹی کی حماقت اور حقارت بھری سیاست کا فیول جس کے ذریعہ بی جے پی کی ناکامی کو کامیابی میں بدل رہی ہے ۔ حال ہی میں بی جے پی کی لیڈر کرونا گوپال نے یہ دعویٰ سے کہا کہ بی جے پی اب تلنگانہ میں قدم مضبوط بنا رہی ہے اور ایک دن ٹی آر ایس کو اس کا مقام دکھا دے گی ۔ بی جے پی کی اس خاتون لیڈر نے ڈاؤس میں عالمی اکنامک فورم کے موقع پر فارما سیوٹیکل کمپنیوں کو حیدرآباد میں سرمایہ کاری کرنے کی پیشکش کرنے والے وزیر کے ٹی راما راؤ پر بھی برس پڑی ہیں ۔ خاتون لیڈر کرونا گوپال کا کہنا ہے کہ ریاست میں کئی تالاب اور آبی ذخائر نہایت ہی آلودہ ہوچکے ہیں ۔ فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی جانب سے چھوڑے جانے والے فضلا کی وجہ سے ریاست میں تالاب اور زیر زمین پانی کے ذخائر آلودہ ہورہے ہیں ۔ اب تلنگانہ زہریلی فضا کا مرکز بن رہا ہے ۔ ٹی ار ایس حکومت کی خرابی یہ ہے کہ وہ فضائی آلودگی بہتر بنانے کی آڑ میں حیدرآباد کو آئی سی یو میں ڈھکیل رہی ہے ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ اور نیشنل گرین ٹریبونل نے شہر میں تالابوں کی حفاظت میں ناکام ٹی آر ایس حکومت کی سرزنش بھی کی ہے جب کہ کے ٹی راما راؤ شہر حیدرآباد کی سرزمین کو مزید آلودہ کرنے کے لیے عالمی فارما کمپنیوں کو سرمایہ کاری کی دعوت دے رہے ہیں ۔ جہاں تک بی جے پی کو تلنگانہ میں ایک مضبوط پارٹی بناکر ٹی ار ایس سے اقتدار چھین لینے کا سوال ہے اس کے لئے بی جے پی کا ساتھ دینے والی ٹی آر ایس کی منہ بولی دوست پارٹی ہی کافی ہے ۔ اب بی جے پی نے بیاڈمنٹن اسٹار سائنا نہوال کو بھی پارٹی میں شامل کرلیا ہے ۔ اس کی شمولیت کے بعد یہ قیاس کیا جارہا ہے کہ وہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں بی جے پی کے ایک مضبوط پارٹی نمائندہ ہو کر بی جے پی کو مضبوط بنانے میں اہم رول ادا کریں گی ۔ فی الحال تو بی جے پی اور سائنا نہوال کسی نے بھی اس شمولیت اور بیاڈمنٹن اسٹار کے مستقبل کی مصروفیات کے بارے میں وضاحت کی ہے ۔ البتہ یہ کہا جارہا ہے کہ نہوال اپنی طرف سے بی جے پی کی تائید کرتے ہوئے آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں کام کریں گے ۔ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی سائنا نہوال کے بی جے پی میں شامل ہونے سے بی جے پی کے ریاستی قائدین کو یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ پارٹی کے قدم جم جائیں گے ۔ اس سے پہلے بھی تلگو دیشم پارٹی کے بعض قائدین نے بھی بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی ۔ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے تلگو دیشم قائدین جیسے ویریندر گوڑ ، سابق صدر ٹی ڈی پی یوتھ ونگ نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی ۔ ان کے علاوہ وی نارائن ریڈی ، مانیکلا ارونا اور بی ناگا بھوشن کے ساتھ ٹی ناگیش ، بی روی اور سی ستیہ نارائنا اے پی نے بھی بی جے پی کو اپنا آسرا بنالیا ہے ۔ بی جے پی کے قائدین اس کوشش میں ہے کہ ٹی آر ایس کو کمزور کردیا جائے ۔ اس لیے بلدی انتخابات ان کے لیے اہم تجربہ ثابت ہوئے ۔ ضلع نظام آباد میں اپنی شاندار کامیابی کا زعفرانی جھنڈا لہرانے کے بعد بی جے پی کو ٹی آر ایس کی منہ بولی دوست اور اپنی خفیہ جگری دوست پارٹی پر کامل بھروسہ ہوگیا ہے کہ وہ دیگر ریاستوں میں جہاں مسلمانوں کے ووٹ ہیں وہاں اپنے امیدوار اتار کر بی جے پی کے ووٹ بنک کو مضبوط کرے گی ۔ اسی طرح ٹی آر ایس کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والی یہ پارٹی کب تک ٹی آر ایس کے قائدین کو الو بناتے رہے گی ۔ یہ آگے دیکھا جائے گا ۔ سی اے اے کے معاملہ میں ٹی آر ایس کے سربراہ اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے شاید اس لیے اپنا منہ کھولا ہے کہ وہ اسمبلی میں قرار داد منظور کروا کر سی اے اے کے خلاف ایک بڑا جلسہ منعقد کریں گے ۔ کے سی آر کو ان بلدی انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد یہ ہوش آیا ہے کہ اگر انہوں نے اپنا سیکولر ووٹ کھو دیا تو پھر بی جے پی ان کی چھاتی پر مونگ دلے گی ۔ بلدی انتخابات سے قبل تک کے سی آر نے این آر سی ، سی اے اے کے بارے میں کچھ نہیں کہا تھا جیسے ہی بلدی انتخابی نتائج آگئے اور اس میں بی جے پی کو کامیاب ہوتے دیکھا تو ہوش اڑ گئے ۔ اگرچیکہ کے سی آر نے انتخابات سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ ان کی پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی ۔ اس کے سامنے کوئی پارٹی کھڑے نہیں ہوسکے گی لیکن بی جے پی نے دکھا دیا ہے کہ وہ نہ صرف کھڑا ہوگئی ہے بلکہ اس نے اپنے قدم بھی مضبوط کرلیے ہیں ۔ کے سی آر ایک کہنہ مشق سیاستداں ہیں وہ اڑتی چڑی کے پر گن سکتے ہیں ۔ سیاسی میدان میں ان کے سامنے کوئی مضبوط ہوتا دکھائی دیتا ہے تو وہ پریشان بھی ہوجاتے ہیں ۔ بی جے پی نے ان کی نیند حرام کردی ہے آنے والے اسمبلی انتخابات تک بی جے پی کو کمزور کرنے سے زیادہ کے سی آر کو اپنی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط رکھنا ضروری ہے اس لیے بلدی نتائج کے بعد انہوں نے سی اے اے کے بارے میں اپنی رائے ظاہر کی اور اب وہ اسمبلی سیشن کے بعد ریاست کے اضلاع کا دورہ کریں گے ۔ پارٹی کے علاقائی کیڈرس کے حوصلے بڑھیں گے ۔ اندرونی طور پر کے سی آر کو یہ اندازہ ہوگیا ہے کہ ٹی آر ایس کا علاقائی کیڈر پارٹی سے ناراض ہے ۔ ان کی ناراضگی دور کرنے کے لیے وہ اضلاع کا دورہ کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ ضلع عادل آباد کے مختلف علاقوں میں شخصی طور پر قبائیلوں کے مسائل کا جائزہ لیں گے ۔ تلنگانہ کے ہر ضلع کا الگ مسئلہ ہے ہر مسئلہ کو حل کرنے میں ہی ٹی آر ایس کی بھلائی ہے اور یہ کام بذات خود کے سی آر ہی کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ انہیں پارٹی کے کسی بھی لیڈر پر یقین نہیں ہورہا ہے کیوں کہ خود ان کی دختر کے کویتا کے حلقہ میں ٹی آر ایس کو بھاری نقصان ہوا ہے تو پھر دیگر حلقوں میں بی جے پی کیا کیا حربے اختیار کرے گی اور ٹی آر ایس کو نقصان پہونچائے گی یہ کہا نہیں جاسکتا ۔ ٹی آر ایس کے لوکل لیڈروں کو پارٹی کے ساتھ مضبوطی سے وابستہ رکھنا ضروری ہے ۔ اب کے سی آر کو اپنے منہ بولے دوستوں پر بھروسہ نہیں رہا ۔ یہ منہ بولے دوست مرکز کی حکمراں پارٹی سے خفیہ دوستی نبھا رہے ہیں ۔ ٹی آر ایس کے لیے اس سے پہلے کی کوئی مشکل اور آجائے اپنے سیکولر ووٹ مضبوط رکھنا ضروری ہے ۔ انہیں تلنگانہ اسمبلی کے سیشن میں قرار داد منظور کرتے ہوئے سی اے اے کے خلاف پر زور احتجاج کرنا ضروری ہوگیا ہے تاکہ ٹی آر ایس سے تلنگانہ کے مسلمانوں کی ناراضگی کو دور کرسکیں ۔ 12 فیصد تحفظات نہیں دے سکیں لیکن کم از کم مودی حکومت کے غیر دستوری فیصلوں کی مخالفت کرنے اس ملک کے دستور کو بچانے کی مہم میں ٹی آر ایس کو بچانے میں کامیاب ضرور ہوسکتے ہیں ۔ ان کے سیاسی خوش خوراک یار دوست ایک دن بی جے پی کی خوش خوراکی بن جائیں گے ۔ کیوں کہ بے چارے سی اے اے کی وجہ سے اس قدر خوف زدہ ہوگئے ہیں کہ اپنے آقا کی ہر بات مان رہے ہیں ۔ اپنے ووٹرس کو محدود طریقہ سے احتجاج کروا کر ایک طرف اپنا ووٹ بینک بچانے کی چکر میں ہیں ۔ دوسری طرف آقا بی جے پی کو اندر ہی اندر سیاسی مدد کررہے ہیں ۔ ایک دن انہیں بھی یہ دوستی مہنگی پڑے گی کیوں کہ بُرے کی دوستی ٹھیک ہے نہ دشمنی ۔ دونوں طرح سے یہ لوگ درمیان میں پھنس چکے ہیں وہ اب ان شیطانی دماغ کی چکر بازیوں سے بچ نہیں پائیں گے ۔ اگر بچنا چاہتے ہیں تو انہیں بھی کے سی آر کی طرح فوری ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے ۔۔
kbaig92@gmail.com

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT