کالیشورم پراجکٹ کے تحت لکشمی بیاریج پُل کے ایک حصہ کو نقصان

   

سبوتاج کا اندیشہ، محکمہ آبپاشی نے برج پر ٹریفک کی آمدورفت روک دی

حیدرآباد۔/22اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں دنیا بھر کے سب سے بڑے کالیشورم لفٹ ایریگیشن پراجکٹ کی تعمیر پر سیاسی پارٹیوں کی دعویداری ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ اچانک لکشمی بیاریج برج جو کالیشورم پراجکٹ کے تحت ہے اس کا کچھ حصہ اچانک منہدم ہوگیا جس کے نتیجہ میں دریائے گوداوری پر واقع اس پل پر ٹریفک کی آمدورفت روک دی گئی۔ یہ برج تلنگانہ کو مہاراشٹرا کے گڈچیرولی ضلع سے جوڑتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہفتہ کی رات جئے شنکر بھوپال پلی ضلع میں واقع لکشمی بیاریج برج کے قریب زوردار دھماکہ کی آواز سنائی دی جس کے نتیجہ میں برج کے ایک حصہ کو نقصان پہنچا۔ بتایا جاتا ہے کہ پلر نمبر 19، 20 اور 21 اس دھماکہ کے بعد پانی میں اُتر گئے۔ عہدیداروں نے سبوتاج کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ محکمہ آبپاشی کے عہدیداروں نے ہنگامی اجلاس طلب کیا اور ٹریفک کو عارضی طور پر روکنے کی ہدایت دی۔ اسپیشل چیف سکریٹری آبپاشی رجت کمار نے اس واقعہ پر تبصرہ سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ واقعہ کے بارے میں مقامی عہدیداروں سے رپورٹ کا انتظار کررہے ہیں۔ رپورٹ ملنے کے بعد ہی وہ وجوہات کے بارے میں بیان کریں گے۔ واضح رہے کہ 1632 میٹر طویل لکشمی بیاریج برج 4 سال قبل مکمل کیا گیا جس کے 87 پلرس ہیں اور برج کا 356 میٹر حصہ مہاراشٹرا میں آتا ہے۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے اس واقعہ کے بارے میں عہدیداروں سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ اسی دوران مرکزی وزیر کشن ریڈی نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے اس واقعہ کو کے سی آر حکومت کے بریک ڈاؤن سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے انجینئرس کی کوتاہیوں کے نتیجہ میں برج کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے دوران دو پمپ ہاؤز غرقاب ہوگئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ برج کو نقصان دراصل تعمیرات میں کرپشن اور انتظامیہ کی ناکامی کا ثبوت ہے۔