کالیشورم کو منی گوا طرز پر سیاحتی مقام میں تبدیل کرنے کی تجویز

   


تفریح و تقاریب کے لیے 200 افراد کی گنجائش والی کشتی بھی چھوڑنے کا فیصلہ
حیدرآباد۔ کالیشورم کو ’منی گوا‘ کے طرز پر ترقی دیتے ہوئے سیاحتی مقام بنایا جائے گا اور گوداوری ندی کے کناروں کو ساحل کے طرز پر ترقی دینے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے سیاحت کے فروغ کے لئے 200 افراد کی گنجائش والی کشتی کو کالیشورم میں چھوڑنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس کشتی میں عالمی معیار کی سہولتوں کی فراہمی کے علاوہ چھوٹی تقاریب کے انعقاد کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ میدی گڈہ میں تعمیر کئے گئے ملک کے سب سے بڑے آبپاشی پراجکٹ میں سیاحتی سہولتوں کی فراہمی کے لئے تیار کئے گئے منصوبہ کے تحت آئندہ 4ماہ کے دوران پہلے مرحلہ کی تکمیل کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے 2کروڑ روپئے اس کشتی کی خریدی کیلئے منظور کئے جاچکے ہیں جو کہ کالیشورم میں سیاحوں کی دلچسپی کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہوگی۔ بتایاجاتا ہے کہ گوداوری ندی کے کناروں کو ساحل کے طرز پر ترقی دیتے ہوئے اس ساحل پر سیاحوں کی مصروفیت کی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا اور انہیں گوا کے طرز پر ترقی دی جائے گی۔حکومت کی جانب سے کروائے گئے سروے کے مطابق شہری تالابوں اور سمندر کے علاوہ ندی کنارے رات بسر کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور سیاحوں کی ان دلچسپیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے کالیشورم میں رات کی زندگی میں دلچسپی پیدا کرنے کے اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے تیار کئے گئے اس منصوبہ کو اندرون ایک سال قابل عمل بنانے کے ساتھ ساتھ شہر سیاحوں کو کالیشورم کی جانب راغب کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔محکمہ سیاحت کے عہدیداروں کے مطابق تلنگانہ میں کالیشورم ایک ایسا مقام ہے جو کہ سیاحوں کی تمام خواہشوں کو پورا کرنے کے علاوہ سیاحوں بالخصوص عالمی سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز بن سکتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق محکمہ سیاحت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے لئے خانگی عوامی شراکت داری کا بھی منصوبہ تیار کیا گیا ہے تاکہ تلنگانہ میں سیاحت کے فروغ میں کالیشورم کو مرکزی اہمیت کے حامل مقامات میں شامل کیا جاسکے۔حکومت کے عہدیداروں نے بتایا کہ اس سلسلہ میں مکمل منصوبہ تیار کیا جاچکا ہے اور آئندہ چند یوم کے دوران سیاحوںکے لئے پیاکیجس کا بھی اعلان کردیا جائے گا ۔