کاما ریڈی سے کے سی آر اور جوبلی ہلز سے مجلس

   

مجلس کے علاوہ کسی اور کو مسلمانوں کی نمائندگی کا حق نہیں کی سیاست
حیدرآباد 4 نومبر ( سیاست نیوز ) مجلس اتحاد المسلمین نے تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں جملہ 9 حلقوں سے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ان میں سات وہ حلقے ہیں جہاں سے مجلس کے امیدواروں نے 2018 میں انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی ۔ اس کے علاوہ مجلس نے جوبلی ہلز اور راجندر نگر سے بھی مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ مجلس اور بی آر ایس مسلسل ایک دوسرے کو اپنی حلیف اور دوست جماعت قرار دیتے ہیں ایسے میں عوام میں یہ رائے بن رہی ہے کہ مجلس جوبلی ہلز میں ایک مسلم امیدوار محمد اظہر الدین کو شکست سے دوچار کرنے کیلئے بی آر ایس کی مدد کے مقصد سے اپنے امیدوار کو نامزد کرنا چاہتی ہے ۔ مجلس اتحاد المسلمین جب تلنگانہ کے باہر دوسری ریاستوں میں انتخابات ہوتے ہیں تو درجنوں نشستوں سے مقابلہ کرتی ہے لیکن تلنگانہ میں وہ محض سات تا نو حلقوں میں مقابلہ کو ترجیح دیتی ہے ۔ دو ہندسوں تک بھی اپنے امیدوار میدان میں نہیں اتارتی ۔ ملک کی کئی ریاستوں میں مجلس اور اس کے امیدواروں کو ووٹ کٹوا قرار دیا جاتا ہے ۔ دیگر ریاستوں میں مجلس کی یہی شناحت ہوگئی ہے ۔ اب جبکہ تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات ہو رہے ہیں تو کچھ گوشوں کو امید تھی کہ مجلس یہاں زیادہ نشستوں سے مقابلہ کرے گی تاہم مجلس نے دو ہندسوں تک بھی اپنے امیدوار نامزد نہیں کئے ہیں۔ جن سات حلقوں سے اس کے ارکان اسمبلی تھے وہاں کے علاوہ راجندر نگر اور جوبلی ہلز سے مقابلہ کا اعلان کیا گیا ہے ۔ جوبلی ہلز میں کانگریس نے وشنو وردھن ریڈی کو ٹکٹ نہ دیتے ہوئے ایک مسلمان امیدوار محمد اظہر الدین کو مقابلہ کیلئے ٹکٹ دیا ہے ۔ ایسے میں یہ امید کی جارہی ہے کہ حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز کے مسلم ووٹرس کی اکثریت محمد اظہر الدین کو ووٹ دیتے ہوئے کامیاب کرے گی ۔ شائد یہی بات مجلس اور اس کی قیادت کو پسند نہیں کہ کسی اور جماعت سے کوئی اور مسلمان منتخب ہو کر اسمبلی میں آئے ۔ اسی لئے یہاں مسلمانوں کے ووٹ کاٹنے کیلئے مجلس نے اپنے امیدوار کو میدان میں اتارنے کا اعلان کردیا ہے ۔ عوام میں یہ رائے ظاہر کی جانے لگی ہے کہ دونوں ہی حلیف جماعتیں اسمبلی میں مسلمانوں کی نمائندگی میں اضافہ کو برداشت کرنے تیار نہیں ہیں اسی لئے جن حلقوں میں مسلمان امیدوار ہیں اور جہاں ان کی کامیابی کے امکانات خاصے روشن ہیں وہاں ان کو شکست سے دوچار کرنے کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ حلقہ اسمبلی کاما ریڈی سے کانگریس نے محمد علی شبیر کو ٹکٹ دینے کا ارادہ کیا تھا تو بی آر ایس سربراہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے خود وہاں سے مقابلہ کا اعلان کردیا اور ان سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے مجلس نے حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز میں مسلمان امیدوار محمد اظہر الدین کے ووٹ کاٹنے کیلئے اپنے امیدوار کو میدان میں اتارنے کا اعلان کردیا ہے ۔ اس طرح کے اقدامات سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ تلنگانہ میںمجلس کے علاوہ کسی اور کو مسلمانوں کی نمائندگی کا حق نہیں ہے ۔ یہ صرف مجلس کی اجارہ داری والی سیاست ہے ۔