کانگریس اقتدار میں عوام کو مثالی سہولیات کا وعدہ بس یاترا کے آخری دن راہول گاندھی کا خطاب ۔

   

انہوں نے کہا کہ وہ جھوٹے وعدے کرنے نہیں آئے ہیں بلکہ کرناٹک اور دیگر ریاستوں میں جس طرح وعدوں پر عمل کیا گیا اسی طرح تلنگانہ میں بھی عمل آوری کا یقین دلاتا ہوں۔ راہول گاندھی نے کانگریس کے 6 ضمانتوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ خواتین کو ماہانہ 2500 روپئے کی امداد، 500 روپئے میں گیس سلینڈر، خواتین کو آر ٹی سی میں مفت سفر کی سہولت، 200 یونٹ مفت برقی کی سربراہی، آسرا پنشن کے تحت ماہانہ 4 ہزار روپئے، کسانوں کو فی ایکر 15 ہزار روپئے اور زرعی مزدوروں کو 12 ہزار روپئے کی امداد، مکانات کی تعمیر کیلئے 5 لاکھ کی مدد، ہلدی کسانوں کو فی کنٹل 12 تا 15 ہزار روپئے کی امداد، زرعی پیداوار پر ایم ایس پی کے علاوہ فی کنٹل 500 روپئے اضافی بونس دیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے 10 سال میں جو دولت لوٹی ہے اسے کانگریس عوام کی جیب میں منتقل کرے گی۔ راہول گاندھی نے شکر کے کاشتکاروں کو تیقن دیا کہ تمام شوگر فیکٹریز کو بحال کیا جائیگا۔ انہوں نے عہد کیا کہ تلنگانہ میں عوامی حکومت کی تشکیل کیلئے زمینداروں کی حکومت کا خاتمہ کیا جائیگا۔ راہول نے کہا کہ تلنگانہ سے میرا تعلق سیاسی نہیں بلکہ محبت اور خاندان کا رشتہ ہے۔ آپ کا نہرو، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی اور سونیا گاندھی سے گہرا رشتہ رہا ہے۔ تلنگانہ کے دورہ سے قبل میں نے اپنی بہن پرینکا سے بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ دن بعد وہ تلنگانہ کا دورہ کریں گی۔ میں نے کہا کہ تلنگانہ میں پہلے دن تم میرے ساتھ رہوگی کیونکہ تلنگانہ عوام سے ہمارا خاندان کی طرح رشتہ ہے اور میں پرینکا کے ساتھ تلنگانہ پہنچا۔ راہول گاندھی نے کہا کہ بی جے پی، بی آر ایس و مجلس تینوں ایک ہیں۔ کانگریس اور میں سارے ملک میں بی جے پی کے خلاف لڑائی کررہے ہیں۔ مہاراشٹرا، آسام اور راجستھان جہاں کہیں بھی کانگریس مقابلہ کرتی ہے مجلس امیدوار کھڑا کرکے کانگریس کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔ بی جے پی 24 گھنٹے مجھ پر حملہ کررہی ہے۔ 24 مقدمات درج کئے گئے۔ پارلیمنٹ کی رکنیت ختم کردی گئی اور سرکاری گھر چھین لیا گیا۔ میں نے کہا کہ میرا گھر لے لو مجھے گھر کی ضرورت نہیں، سارے ہندوستان میں میرا گھر ہے، ہندوستان میں مجھے گھر کی ضرورت نہیں کیونکہ کروڑوں عوام کے دلوں میں میرا گھر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کے کرپشن کے باوجود ان کے خلاف سی بی آئی، ای ڈی اور انکم ٹیکس کے مقدمات نہیں ہیں جبکہ اپوزیشن کے خلاف مقدمات درج کئے گئے۔ بی جے پی دراصل بی آر ایس کا تحفظ کررہی ہے اور بی جے پی، بی آر ایس اور مجلس تینوں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور مجھ پر حملہ کررہے ہیں جبکہ چیف منسٹر کے سی آر کے خلاف بی جے پی اور مجلس بیان نہیں دیتی۔ پارلیمنٹ میں ہر موڑ پر بی آر ایس نے بی جے پی کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی ختم ہوچکی ہے اور کانگریس نے اس کی گیس نکال دی ۔ بی آر ایس حکومت کو اقتدار سے بیدخل کرنا کانگریس کا مقصد ہے۔ انہوں نے یہ کہتے ہوئے کانگریس کارکنوں کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کی کہ جنگل میں شیر اکیلا دکھائی دیتا ہے اور کئی شیر ایک ساتھ نہیں ملتے لیکن آج کانگریس کے ہزاروں شیر میرے سامنے کھڑے ہیں۔ تلنگانہ میں آئندہ حکومت عوام کی اور کانگریس کے ورکرس ببر شیروں کی ہوگی۔