کانگریس امیدواروںکی دوسری فہرست پر قائدین میں اختلاف رائے

   

آج دوبارہ سنٹرل الیکشن کمیٹی کا اجلاس، کھمم کی نشستوں پر سینئر قائدین میں تکرار
حیدرآباد ۔26۔اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات کیلئے کانگریس امیدواروں کی دوسری فہرست کو قطعیت دینے کیلئے ہائی کمان سرگرم مشاورت میں مصروف ہے اور بتایا جاتا ہے کہ سینئر قائدین نے کئی نشستوں کے امیدواروں کے ناموں پر اختلاف رائے کے سبب سنٹرل الیکشن کمیٹی نے فہرست کو قطعیت نہیں دی ہے ۔ سنٹرل الیکشن کمیٹی کا آج مسلسل دوسرے دن بھی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس مختلف مراحل میں جاری رہا لیکن کھمم اور بعض دیگر اضلاع میں امیدواروں کے ناموں پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ بتایا جاتا ہے کہ بائیں بازو جماعتوں کو الاٹ کی جانے والی نشستوں کے مسئلہ پر قائدین نے اختلاف کیا۔ کانگریس کی زیر اثر نشستوں کو بائیں بازو جماعتوں کو الاٹ کرنے کی مخالفت کی گئی۔ اے آئی سی سی نے پردیش کانگریس کمیٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ سی پی آئی اور سی پی ایم کی نشستوں پر اتفاق رائے پیدا کرے۔ جنرل سکریٹری اے آئی سی سی کے سی وینوگوپال نے دو مرحلوں میں کھمم سے تعلق رکھنے والے کانگریس قائدین سے ملاقات کی اور نشستوں پر تبادلہ خیال کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق رکن پارلیمنٹ پی سرینواس ریڈی ، سابق مرکزی وزیر رینوکا چودھری اور سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا کے درمیان بعض نشستوں پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ یہ تینوں قائدین جن نشستوں کی مانگ کر رہے ہیں، ان میں اتفاق رائے پیدا ہونا آسان نہیں ہے۔ تینوں پارٹی کے سینئر قائدین ہیں ، لہذا کے سی وینوگوپال اس معاملہ کو راہول گاندھی سے رجوع کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ سنٹرل الیکشن کمیٹی کا آئندہ اجلاس کل جمعہ تک کیلئے ملتوی کردیا گیا۔ پارٹی قائدین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ فہرست کو قطعیت دیئے جانے تک دہلی میں قیام کریں۔ سنٹرل الیکشن کمیٹی نے 64 اسمبلی حلقہ جات کے امیدواروں کے ناموں پر تفصیلی مشاورت کی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ 8 تا 10 نشستوں پر ارکان میں اختلاف رائے دیکھا گیا ہے۔