رائے دہندوں نے انحراف کی سزا دی، سبیتا اندرا ریڈی اور سدھیر ریڈی کو کامیابی
حیدرآباد ۔4۔ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ رائے دہندوں نے 2018 ء چناؤ کے بعد کانگریس اور تلگو دیشم سے انحراف کرکے بی آر ایس میں شامل 14 ارکان اسمبلی کو شکست سے دوچار کرکے انحراف کی سزا دی صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے انتخابی مہم میم عوام سے اپیل کی تھی کہ انحراف کرنے والے ارکان اسمبلی کو اسمبلی کی چوکھٹ میں داخل ہونے نہ دیں۔ 2018 ء میں کانگریس سے انحراف کرکے بی آر ایس کے ٹکٹ پر مقابلہ کرنے والے جن ارکان اسمبلی کو عوام نے مسترد کردیا ، ان میں آر کانتا راؤ (پیناپاکا) ، بی ہرش وردھن ریڈی (کولا پور) ، کے اوپیندر ریڈی ( پالیرو) ، وی وینکٹیشور راؤ (کتہ گوڑم) ، روہت ریڈی (تانڈور) و جے سریندر (یلا ریڈی) شامل ہیں۔ عوام نے کانگریس کو دوبارہ ان حلقوں سے کامیاب بنایا ہے ۔ تلگو دیشم کے ٹکٹ پر منتخب ہونے کے بعد بی آر ایس میں انحراف کرنے والے ایس وینکٹ ویویا (ستو پلی) اور ایم ناگیشور راؤ (اشوا راؤ پیٹ ) کو شکست ہوئی ۔ دونوں حلقوں سے کانگریس امیدوار منتخب ہوئے۔ کانگریس سے بی آر ایس میں شامل دیگر ارکان کو حلقہ کے ووٹرس نے مسترد کردیا ، ہری پریا نائک (ایلندو) ، سی ایچ لنگیا (نکریکل) ، جی وینکٹ رمنا ریڈی (بھوپال پلی) شامل ہیں۔ بی آر ایس میں شامل دو ارکان دوبارہ منتخب ہوئے ، ان میں سابق وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی (مہیشورم) اور ڈی سدھیر ریڈی (ایل بی نگر) شامل ہیں۔