کانگریس حکومت میں مسلمان اور مذہبی عبادت گاہیں غیر محفوظ

   

ایک درجن سے زائد مذہبی مقامات کو نقصان اور 40 سے زائد فرقہ وارانہ واقعات : امتیاز اسحاق
حیدرآباد 24 فروری ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس سکریٹری و سابق صدر نشین تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن امتیاز اسحاق نے ریاست میں کانگریس حکومت میں ، مساجد ، درگاہوں ، قبرستانوں ، عاشور خانوں کو منہدم کرنے اور مسلمانوں پر بڑھتے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ دو سالہ کانگریس حکومت میں ایک درجن سے زائد مذہبی عمارتوں کو نقصان پہونچایا گیا ہے اور تقریبا 40 سے زائد فرقہ وارانہ واقعات پیش آئے ہیں ۔ ریاست میں لا اینڈ آرڈر کو کنٹرول کرنے اور مسلمانوں کو تحفط فراہم کرنے میں ریونت ریڈی حکومت ناکام ہوچکی ہے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ کانگریس کے مسلمان اور انتخابات میں کانگریس کی تائید کرنے والی مذہبی تنظیمیں اور علماء مشائخین اس پر خاموش ہیں ۔ کسی نے ان واقعات کی مذمت کی جرارت نہیں کی ہے ۔ ریاست میں آئے دن مساجد ، درگاہوں ، قبرسانوں کو منہدم کیا جارہا ہے اور سب تماشہ دیکھ رہے ہیں ۔ امتیاز اسحاق نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے نام پر چیف منسٹر کے اسمبلی حلقہ کوڑنگل میں بھی ایسی کارروائیاں کی گئی ۔ اب ویملواڑہ میں درگاہ حضرت سید تاج الدین خواجہ باگ سوارؒ کو اس لیے منہدم کیا گیا کیوں کہ وہاں راجہ راجیشور مندر کی توسیع و تعمیر کو یقینی بنایا جاسکے ۔ سدا سیو پیٹ میں ایک عارضی مسجد کو منہدم کیا گیا ۔ بانسوارہ میں مسلمانوں پر حملے کئے گئے ہیں ۔ کانگریس سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے والے چیف منسٹر کانگریس حکومت میں مسلمانوں کو اور ان کے مذہبی ڈھانچوں کو نقصان پہونچانے کی منظم سازش کررہے ہیں ۔ جس کی بی آر ایس سخت مذمت کرتی ہے ۔ چند دن قبل پرانے شہر میں شرپسندوں نے قبروں کو مسمار کیا ہے ۔ امتیاز اسحاق نے کہا کہ کانگریس حکومت مسلمانوں اور مسلمانوں کی مذہبی عمارتوں کا تحفظ کرنے میں ناکام ہوگئی ہے ۔ سرکاری سرپرستی میں ان انہدامی کارروائیوں سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں ۔ کانگریس حکومت کو اس کی قیمت چکانی پڑیگی ۔۔2