ہڑتالی ڈاکٹرس سے ملاقات کی کوشش، پولیس کے رویہ پر قائدین کا احتجاج
حیدرآباد ۔10۔ جون(سیاست نیوز) پولیس نے آج کانگریس کے سینئر قائدین کو ہڑتالی جونیئر ڈاکٹرس سے ملاقات کرنے سے روک دیا جس پر پولیس اور قائدین کے درمیان بحث و تکرار ہوئی ۔ سابق رکن پارلیمنٹ کونڈا وشویشور ریڈی ، خازن پردیش کانگریس کمیٹی جی نارائن ریڈی اور جنرل سکریٹری پردیش کانگریس بی کشن گاندھی ہاسپٹل میں ہڑتالی جونیئر ڈاکٹرس سے ملاقات اور اظہار یگانگت کے لئے گاندھی ہاسپٹل سے رجوع ہوئے۔ پولیس نے انہیں گاندھی ہاسپٹل کے قریب روک دیا اور آگے جانے کی اجازت نہیں دی ۔ کانگریس قائدین سڑک کے کنارے ٹھہر گئے اور پولیس کے رویہ پر احتجاج کرنے لگے۔ وشویشور ریڈی نے کہا کہ جمہوریت میں اپوزیشن کو اجازت ہے کہ وہ عوامی مسائل کو پیش کریں۔ جونیئر ڈاکٹرس کے خلاف گاندھی ہاسپٹل میں ڈاکٹرس کا احتجاج جاری ہے اور کانگریس پارٹی احتجاج سے اظہار یگانگت کرتی ہے ۔ پولیس نے کانگریس قائدین کو جانے کی اجازت نہیں دی۔ آخر کار انہیں گاندھی بھون واپس ہونا پڑا۔ گاندھی ہاسپٹل میں جونیئر ڈاکٹرس پر حملوں کے واقعات میں روزانہ اضافہ ہورہا ہے ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وشویشور ریڈی اور نارائن ریڈی نے گاندھی ہاسپٹل میں ڈاکٹرس کو بنیادی سہولتوںکی کمی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہاسپٹل میں کورونا مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جبکہ اسٹاف کم ہے ۔ ڈاکٹرس کو درکار سہولتیں اور کٹس فراہم نہیں کئے جارہے ہیں جس کے نتیجہ میں کئی ڈاکٹرس کور ونا سے متاثر ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی سہولتوں کی کمی کے سبب مریضوں کی موت کے لئے ان کے رشتہ دار ڈاکٹرس کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ڈاکٹرس کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ کانگریس قائدین نے کہا کہ ہائی کورٹ کی ہدایت کے باوجود حکومت بڑے پیمانہ پر ٹسٹ منعقد کرنے سے گریز کر ہی ہے۔ انہوں نے پولیس کے رویہ پر احتجاج کیا اور کہا کہ ہڑتالی ڈاکٹرس سے ملاقات سے روکنا غیر جمہوری عمل ہے۔