ڈسپلن شکنی ناقابل برداشت، ہنمنت راؤ کے رویہ پر برہمی کا اظہار
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں کانگریس پارٹی کو مستحکم کرنے کیلئے حیدرآباد کے دورہ پر آئے ہوئے نئے انچارج جنرل سکریٹری مانکیم ٹیگور ایم پی نے پارٹی میں ڈسپلن شکنی کو ناقابل برداشت قراردیا اور قائدین سے کہا کہ وہ گاندھی بھون کے بجائے عوام کے درمیان رہیں۔ مانکیم ٹیگور نے گاندھی بھون میں دوباک اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ کے سلسلہ میں منعقدہ اجلاس میں سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ کی سرزنش کی اور واضح کردیا کہ پارٹی میں ذات پات کی بنیاد پر کوئی گروہ بندی نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے ہنمنت راؤ کو سخت الفاظ میں پابند کیا کہ وہ بار بار مخصوص ذات کو نظرانداز کرنے کی شکایت بند کریں۔ ایک مرحلہ پر ہنمنت راؤ اور مانکیم ٹیگور کے درمیان لفظی تکرار ہوئی تاہم ٹیگور نے انہیں سختی کے ساتھ ڈسپلن برقرار رکھنے یا پھر اجلاس سے چلے جانے کی ہدایت دی۔ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا نے مداخلت کرتے ہوئے ہنمنت راؤ کو خاموش کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ دوباک اسمبلی حلقہ کے جائزہ اجلاس میں میدک اور سدی پیٹ کے قائدین کے علاوہ بعض قائدین کو بطور خصوصی مدعو شرکت کی اجازت دی گئی تھی۔ ہنمنت راؤ اجلاس میں شرکت کیلئے اصرار کرتے رہے جس پر انچارج اے آئی سی سی سکریٹری بوس راج نے انہیں منع کردیا جس پر ہنمنت راؤ برہم ہوگئے اور کہا کہ چونکہ بوس راج کا تعلق اعلیٰ طبقہ سے ہے لہذا وہ پسماندہ طبقات کے خلاف ہیں۔ مانکیم ٹیگور نے صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ہنمنت راؤ کو اجلاس میں شرکت کی اجازت دے دی لیکن اجلاس کے دوران جب ہنمنت راؤ بلند آواز سے ناانصافی کا تذکرہ کرنے لگے تو انہیں روک دیا گیا۔ ہنمنت راؤ نے شکایت کی کہ گذشتہ دو برسوں سے ہائی کمان نے
انہیں ملاقات کا وقت نہیں دیا ہے۔ مانکیم ٹیگور نے کہا کہ وہ خود بھی پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں اور ہر اجلاس میں ہر قائد کو مدعو کرنا ضروری نہیں ہے۔ مانکیم ٹیگور نے کہا کہ وہ ڈسپلن بحال کرنے کیلئے آئے ہیں اور کسی فرد سے خصوصی سلوک نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کے تمام قائدین یکساں ہیں۔ مانکیم ٹیگور کے سخت موقف کو دیکھتے ہوئے ہنمنت راؤ کو دیگر قائدین نے خاموش کردیا۔