تلنگانہ میں قدم جمانے کا خواب چکنا چور۔ مودی ‘ امیت شاہ ‘ یوگی ‘ نڈا اور دیگر کی مہم بھی بے اثر رہی
حیدرآباد۔ 30 نومبر (سیاست نیوز) کانگریس مکت بھارت کا نعرہ دینے والی بی جے پی کو کانگریس پارٹی نے جنوبی ہند سے تلف کردیا پہلے کرناٹک کے اقتدار سے بی جے پی کو بیدخل کرنے کے بعد تلنگانہ میں خصوصی حکمت عملی تیار کرکے بی جے پی کے لئے جنوبی ہند کے دروازے بند کردیئے۔ شمالی ہند میں بی جے پی کا گراف گھٹ جانے کے بعد بی جے پی قومی قیادت نے کرناٹک اور تلنگانہ پر اپنی ساری طاقت جھونک دی تھی۔ کرناٹک سے مایوسی کے بعد تلنگانہ سے بڑی امیدیں تھیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 9 انتخابی جلسوں اور ایک روڈ شو میں حصہ لیا ۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ 20 اور بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے 19 انتخابی جلسوں سے خطاب کیا۔ مرکزی وزرا کے علاوہ اترپردیش، آسام، گوا کے چیف منسٹرس و بی جے پی کے سابق چیف منسٹرس اور قومی قائدین نے بی جے پی امیدواروں کی طوفانی انتخابی مہم چلائی۔ تاہم تمام ایگزٹ پولس کے نتائج بی جے پی کیلئے مایوس کن ثابت ہو رہے ہیں۔ بی جے پی نے تلنگانہ میں ڈبل انجن سرکار کا نعرہ دے کر انتخابات چلائی مگر تلنگانہ میں بی جے پی ڈبل ڈیجیٹ نشستیں حاصل کرنے کے موقف میں بھی نہیں ہے۔ وزیر اعظم مودی نے بی سی طبقات کی تائید حاصل کرنے کامیابی پر بی سی قائد کو چیف منسٹر بنانے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ دلت طبقات کی تائید حاصل کرے ایس سی طبقہ کی زمرہ بندی کرنے کا اعلان کیا۔ ان دونوں وعدوں کو انتخابی مہم کا موضوع بنایا باوجود اس کے بی سی اور ایس سی طبقات نے بی جے پی پر بھروسہ نہیں بتایا۔ اس کے علاوہ بی جے پی کی کامیابی کے بعد تلنگانہ کے ہندوؤں کو رام مندر کا مفت درشن کرانے کا وعدہ کیا جس پر بھی ہندوؤں نے بی جے پی پر اعتماد کا اظہار نہیں کیا۔ روایت کے مطابق بی جے پی نے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے ہوئے ہندو ووٹوں کو متحد کرنے کی کوشش کی۔ 4 فیصد مسلم تحفظات ختم کرنے ‘ حیدرآباد کا نام تبدیل کرکے بھاگیہ نگر رکھنے کا وعدہ کیا جس پر بھی ہندوؤں نے بی جے پی کو نظر انداز کردیا۔ مضبوط حیدرآباد 17 ستمبر کی سرکاری تقاریب منانے کا اعلان کیا ۔ حضور نظام کے خلاف ہندوؤں کو مشتعل کرنے کوشش کی۔ کانگریس کو کامیاب بنانے پر مسلمانوں کی فلاحی اسکیمات متعارف ہونے بی جے پی کو کامیاب بنانے پر بی سی طبقہ کا قائد چیف منسٹر بننے کا بھی دعویٰ کیا۔ جس پر بھی ہندوؤں نے بی جے پی سے اتفاق نہیں کیا۔ بی جے پی کے تمام حربے ناکام ہوگئے۔ بی جے پی کی سازشوں کو ناکام بنانے میں دونوں بھائی بہن راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی نے اہم رول ادا کیا۔ تلنگانہ عوام کے ساتھ جڑنے کے لئے کانگریس پارٹی نے جو منصوبہ بندی تیار کی اس میں وہ پوری طرح کامیاب ہوئی۔ راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی نے اپنے جلسوں اور روڈ شوز میں بی آر ایس، بی جے پی اور مجلس کے درمیان درپردہ خفیہ اتحاد اور مفاہمت ہونے کے دلائل کے ساتھ پیغام پہنچایا جس کو عوام نے تسلیم کیا اور سب سے بڑی بات یہ ہیکہ مسلمانوں نے متحدہ طور پر کانگریس کا ساتھ دیا۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی کے بعد ریونت ریڈی کی قیادت پر عوام نے بھروسہ کیا۔ ریونت ریڈی دلیرانہ فیصلے کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کو اقتدار حاصل کرنے کے موقف تک پہنچا دیا۔ حکومت کے خلاف جارحانہ مہم چلائی اور پارٹی قیادت نے بھی اے ریونت ریڈی کا بھرپور ساتھ دیا جس کے نتیجے میں کانگریس پارٹی اقتدار حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئی ہے۔ ن