حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے ٹی آر ایس کا احتجاج، کابینہ میں تلنگانہ کے غداروں کی شمولیت
حیدرآباد۔/9 فروری، ( سیاست نیوز) بی جے پی کے ریاستی صدر بنڈی سنجے نے کہا کہ آندھرا پردیش کی تقسیم اور ریاستوں کے ساتھ کانگریس کی سابقہ حکومتوں کے رویہ کے خلاف وزیر اعظم نریندر مودی کی تنقیدوں پر ٹی آر ایس کو اعتراض کیوں ہے۔ نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بنڈی سنجے نے ٹی آر ایس کی جانب سے ریاست گیر سطح پر مرکز کے خلاف احتجاج کی مذمت کی اور کہا کہ ٹی آر ایس غیر ضروری طور پر شامل ہورہی ہے جبکہ مسئلہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ سنجے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کبھی بھی تلنگانہ ریاست کی تشکیل کی مخالفت نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ کے حقیقی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے مرکز کے خلاف احتجاج کا ڈرامہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ کے غداروں کو کابینہ میں شامل کیا ہے جبکہ حقیقی جہد کاروں کو نظرانداز کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شہیدان تلنگانہ کے افراد خاندان آج تک حکومت کی امداد سے محروم ہیں۔ نوجوانوں کو ملازمت کا وعدہ کیا گیا لیکن تقررات کیلئے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی نے علحدہ تلنگانہ کیلئے ایجی ٹیشن میں حصہ لیا تھا۔ سشما سوراج نے تلنگانہ کے قیام کیلئے خانگی بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد یو پی اے حکومت نے سرکاری طور پر تقسیم کا بل پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ جدوجہدکی تاریخ سے ناواقف بی جے پی قائدین مرکز اور وزیر اعظم کو نشانہ بنارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے ہمیشہ تلنگانہ کے ساتھ مناسب انصاف کی نمائندگی کی ہے اور مرکزی حکومت دونوں ریاستوں کے ساتھ یکساں سلوک کے حق میں ہے۔ر