کانگریس کی سلطانی ، بی آر ایس کی نظام شاہی کو ختم کرنے کی ضرورت

   

چیف منسٹرپر عوام کی فکر سے زیادہ فارم ہاوز کو ترجیح دینے کا الزام ، نرمل میں وزیر اعظم کا خطاب

نرمل /26 نومبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) چیف منسٹر کے سی آر نے تمہیں صرف دھوکا دیا ہے ۔ کے سی آر کو عوام کی نہیں اپنے خاندان کی فکر ہے ۔ آج تلنگانہ کروڑہا روپئے کے قرض میں ڈوبا ہوا ہے ۔ کے سی آر کی حکومت کا اسٹیرنگ کسی اور کے ہاتھ میں ہے ۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم نریندر مودی نے آج نرمل میں حلقہ اسمبلی نرمل کے بی جے پی امیدوار مسٹر اے مہیشور ریڈی کے انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہو ںنے کہا کہ کانگریس کی سلطانی اور بی آر ایس کی نظام شاہی حکومت کو گھر بھیجنے کی ضرورت ہے جو وزیر اعلی پر بھی سکریٹریٹ نہیں گئے جو فارم ہاوز میں ہی رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ ایسے حکمران سے عوام کیا امید کرسکتی ہے ۔ انہوں نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر کو آپ کے بچے یا آپ کی مستقبل کی فکر نہیں ۔ صرف افراد خاندان کی فکر کرنے والے چیف منسٹر سے کیا امید کی جاسکتی ہے ۔ آج اس قدر بھاری تعداد میں جلسہ میں شرکت اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ تلنگانہ میں بی جے پی کی سرکار بننے جارہی ہے ۔ میں گھر دار چھوڑ کر آیا ہوں ۔ آپ لوگوں کے گھر بسانا میری زندگی کا مقصد ہے ۔ انہوں نے کے سی آر کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی کو صرف اپنے بیٹے اور بیٹی کو آگے بڑھانے کی فکر ہے ۔ وہ یہاں کے عوام کی بھلائی کیلئے کیا کرسکتا ہے۔ انتخابی وعدہ تھا کہ وہ دلت کو چیف منسٹر بنانے کا عہد کرسکتے ہیں ۔ یاد رکھو اگر تم نے اپنا ووٹ کانگریس کو دیا تو راست ٹی آر ایس کو جائے گا ۔ اس لئے کے بی آر ایس کانگریس کی زیراکس کاپی ہے جو حکومت اریگیشن کی ترقی کے نام پر ہزاروں کروڑ روپئے کے اسکام میں ملوث ہے ۔ بھلا وہ کیا غریبوں کی بھلائی کرسکے گی ۔ انہوں نے نرمل اور نظام آباد میں ہلدی کی پیداوار پر یہاں کے کسانوں کو فائدہ پہونچایا جائے گا ۔ آپ لوگ یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ 2024 میں بھی مرکز میں بی جے پی برسر اقتدار آئے گی ۔ اگر تلنگانہ میں بھی بی جے پی کو آپ نے اقتدار دلایا تو ڈبل انجن سرکار اس ریاست کو مثالی ترقی دے گی ۔ انہوں نے اپنی تقریر کے آغاز سے قبل ضلع نرمل کی سرسوتی ماں کے قدموں میں قدم بوسی عرض کرتا ہوں ۔ شہ نشین پر کشن ریڈی نرمل کے امیدوار رمیش ریڈی ، خانہ پور کے امیدوار رمیش راتھوڑ اور دیگر موجود تھے ۔