کے ٹی آر کا سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری سے فون پر بات چیت، معلق نتائج سے سیاسی ہلچل
حیدرآباد : 13 فبروری ( سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کتہ گوڑم میونسپل کارپوریشن میں میئر کے عہدہ کے معاملہ میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ( سی پی آئی) کو غیر مشروط کھلی پیشکش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ بی آر ایس پوری طرح سی پی آئی کی تائید و حمایت کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ کارپوریشن میں معلق صورتحال کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کانگریس اور بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھا جاسکے ۔ تلنگانہ بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ سنگارینی کوئلہ معاملہ کے دوران دباؤ کے باوجود سی پی آئی نے ضلع پداپلی کی کیتن پلی میونسپلٹی میں بی آر ایس کی حمایت کی تھی ۔ اسی جذبہ کے تحت اب بی آر ایس کتہ گوڑم میں سی پی آئی کی تائید کے لیے تیار ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلہ میں سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری و رکن اسمبلی کے سامبا شیوا راؤ سے ان کی ٹیلیفون پر بات چیت ہوچکی ہے اور انہیں پارٹی کے موقف سے آگاہ کرا دیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ کتہ گوڑم کارپوریشن کے 60 ڈیویژنس میں کانگریس اور سی پی آئی کے پاس 22-22 نشستیں ہیں جبکہ بی آر ایس کو 8بی جے پی اور سی پی ایم کوا یک ایک اور آزاد امیدواروں کو 6نشستیں حاصل ہوئی ہیں ۔ عددی برابری کے باعث کارپوریشن میں معلق کیفیت برقرار ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ سی پی آئی کے 22اور بی آر ایس کے 8 ارکان ہیں ۔ ایکس افیشو کی حیثیت سے سامبا شیوا راؤ کے ووٹ کو شامل کرلیا جائے تو میجک فیگر حاصل ہوگا اور سی پی آئی کا میئر منتخب ہوجائے گا ۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہیکہ اگر سی پی آئی بی آر ایس کی پیشکش قبول کرلیتی ہے تو تلنگانہ کی سیاست میں نئی صف بندی وجود میں اسکتی ہے ، کیونکہ اسمبلی انتخابات کے بعد سے سی پی آئی کا کانگریس کے ساتھ اتحاد یا دوستانہ مقابلہ رہا ہے ۔ ایسے میں بی آر ایس کے ساتھ ممکنہ اشتراک ایک اہم اور دلچسپ پیشرفت ثابت ہوسکتا ہے ۔2