کثرت ازدواج اورنکاح حلالہ کیخلاف سماعت کیلئے نئی بنچ کی تشکیل پر غور

   

نئی دہلی :سپریم کورٹ نے جمعرات کو کہا کہ وہ مسلمانوں میںکثرت ازدواج اور ’نکاح حلالہ‘ کے آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کیلئے مناسب مرحلہ پر ایک نئی پانچ ججوں کی آئینی بنچ تشکیل دے گی۔چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس پی ایس۔ نرسمہا اور جے بی پاردیوالا پر مشتمل بنچ سے وکیل اشونی اپادھیائے، جنہوں نے اس معاملے پر ایک مفاد عامہ کی درخواست دائر کی ہے،کہا تھا کہ تعزیرات ہند کی دفعہ 494 کثرت ازدواج اور حلالہ وغیرہ کی اجازت دیتی ہے اور اسے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مناسب مرحلہ پر ایک آئینی بنچ تشکیل دی جائے گی۔گزشتہ سال 30 اگست کو پانچ ججوں کی بنچ نے قومی انسانی حقوق کمیشن ، قومی کمیشن برائے خواتین اور قومی اقلیتی کمیشن کو پی آئی ایل میں فریق بنایا تھا اور ان سے جواب طلب کیا تھا۔جسٹس بنرجی اور جسٹس گپتا گزشتہ سال 23 ستمبر اور 6 اکتوبر کو ریٹائر ہو گئے تھے جس نے کثرت ازدواج اور ‘نکاح حلالہ’ کے طریقوں کے خلاف درخواستوں کی سماعت کیلئے بنچ کی دوبارہ تشکیل کی ضرورت کی بات کی تھی۔