Thursday , July 2 2020

کراچی اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گردحملہ، 9 ہلاک

مہلوکین میں پانچ سکیورٹی ملازمین اور چار دہشت گرد شامل۔مرکزی تجارتی علاقے میں خوف و دہشت

کراچی۔ کراچی میں واقع اسٹاک ایکسچینج کی عمارت پر آج ہوئے دہشت گردوں کے حملے میں چار دہشت گرد ہلاک اور پانچ سکیورٹی ملازمین ہلاک ہوگئے۔کراچی سٹی کے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ مقدس حیدر نے میڈیا کو بتایا کہ خودکار ہتھیاروں سے لیس جنگجوؤں نے اسٹاک ایکسچینج کی عمارت پر حملہ کیا ۔ دستی بم پھینکنے کے بعد سکیورٹی فورس پر فائرنگ کردی۔انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی دستے اور پولیس کے ساتھ جھڑپ میں دو حملہ آور مارے گئے ، جبکہ دیگر دو حملہ آور اسٹاک ایکسچینج کی عمارت میں داخل نہیں ہوسکے تھے اور بعد میں نیم فوجی دستوں نے انہیں ہلاک کردیا۔انہوں نے بتایا کہ مہلوک چار سکیورٹی ملازمین کا تعلق اسٹاک ایکسچینج سے تھا جبکہ ایک پولیس ملازم تھا۔ اس حملے میں پولیس ملازمین سمیت 7 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔اسٹاک ایکسچینج میں صبح کاروبار کے آغاز کے وقت بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد و رفت جاری تھی جب 10 بجے سے کچھ دیر قبل دہشت گردوں نے اندر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے فائرنگ کی اور داخلی دروازے پر دستی بم حملہ بھی کیا۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے منیجنگ ڈائریکٹر فاروق خان نے صحافیوں کو بتایا کہ تمام دہشت گردوں کوگھیر کر اسٹاک ایکسچینج کی گیٹ کے نزدیک ہلاک کردیا گیا اور ان میں سے کوئی بھی دفتر کے اندر داخل نہیں ہوسکا جہاں کاروبار ہورہا تھا۔ حملے کے دوران اسٹاک مارکیٹ میں کام جاری رہا ۔حملے میں زخمی ہونے والے دو افراد کی حالت تشویشناک ہے ۔پولیس ، فوج اور نیم فوجی دستوں نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیلئے عمارت کو ہر طرف سے گھیر لیا اور عمارت کے آس پاس ہر قسم کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔پولیس کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے قبضے سے جدید ہتھیار، دستی بم اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا جبکہ سکیورٹی فورسز نے پی ایس ایکس کے باہر موجود مشتبہ کار کا بھی معائنہ کیا۔اے پیکے مطابق جائے وقوع پر موجود رضوان احمد نامی ایک پولیس ملازم نے بتایا کہ مسلح حملہ آوروں کی لاشوں کے پاس سے برآمد ہونے والے سامان سے کھانے پینے کی اشیا بھی برآمد ہوئیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا دیر تک محاصرہ کرنے کا ارادہ تھا لیکن پولیس نے ان کی کوشش ناکام بنادی۔خیال رہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت کراچی کا معاشی حب سمجھے جانے والے علاقے میں آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع ہے، اس کے ساتھ ہی پولیس ہیڈ کوارٹرز، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے علاوہ متعدد کاروباری دفاتر، بینکس اور میڈیا ہاؤسز کے دفاتر ہیں جبکہ سندھ رینجرز کا مرکزی دفتر بھی اس جگہ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔اسٹاک ایکسچینج کے اندر موجود ایک بروکر یعقوب میمن نے اے پی کو بتایا کہ جب حملہ ہوا تو وہ اور دیگر افراد اپنے دفاتر میں چھپ گئے۔ابھی تک کسی بھی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن مقامی پولیس کو شبہ ہے کہ اس حملے کے پیچھے بلوچستان کے علٰحدگی پسند گروپ کا ہاتھ ہوسکتاہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT