کرنال لاٹھی چارج: ہائیکورٹ کی ہریانہ ایڈوکیٹ جنرل کوجواب داخل کرنے کی ہدایت

   

چنڈی گڑھ: کرنال میں ہفتہ کو کسانون پر لاٹھی چارج کے واقعہ پر پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے ہریانہ کے ایڈووکیٹ جنرل کوجواب داخل کرنے کو کہا ہے ۔منیش لاٹھیر اوردیگروکلاء کی دائردرخواست پر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے یہ ہدایت جاری کی ہے۔ درخواست میں سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ ایس ڈی ایم آیوش سنہا اور پولیس افسران کی کارروائی کو قانونی قرار دیاجا سکتا ہے ؟ کیاکسانوں کا 28 اگست کاپرامن احتجاج سی آر پی سی کے تحت ’’غیر قانونی اجتماع‘‘ ہے ؟ کیاکسانوں کے بنیادی حقوق سرکاری افسران کے ہاتھوں پامال ہوئے ہیں؟ کیا سول انتظامیہ اور پولیس کی کارروائی سی آرپی سی کے سیکشن 129 اوردیگرالتزامات کے مطابق تھی؟ کیا آئین کے آرٹیکل 19 اور 21 کے تحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر کسانوں کومعاوضہ ملنا چاہیے ؟درخواست میں معاملے کی ہائی کورٹ کے کسی ریٹائرڈ جج سے تحقیقات کرانے اورایس ڈیم ایم آیوش سنہا، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وریندر سینی اور انسپکٹر ہرجندر سنگھ کے کردار کی تحقیقات اور زخمیوں کیلئے معاوضہ کی درخواست کی گئی ہے ۔ یہ بھی درخواست کی گئی ہیکہ تحقیقات میں اگر کسی کومجرم پایا جاتا ہے تو اس کے خلاف ضروری قانونی کارروائی کی جائے۔