امراوتی میں مذہبی جھنڈے ہٹانے کے مسئلہ پر دو فرقوں میںسنگباری کے بعد کرفیو نافذ
ممبئی / بنگلور :کرناٹک کے ہبلی اور مہاراشٹرا میںرام نومی کے موقع پر تشدد کے واقعات پیش آئے تھے ۔ دونوں ریاستو ں کی حکومتوں نے ان واقعات کے بعد اس کے خلاف کارروائی تیز کردی ہے ۔ کرناٹک پولیس نے مجلسی کونسلر کے شوہر سمیت 88افراد کو اس سلسلہ میں گرفتار کیا ہے ۔ ہبلی پولیس اسٹیشن پر سنگباری کے بعد 144 نافذ ہے ۔ اس واقعہ میں چار پولیس ملازمین زخمی بھی ہوئے ۔ پولیس کے مطابق ہجوم واٹس ایپ پر قابل اعتراض پوسٹ کرنے والے شخص کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہا تھا جبکہ پولیس نے ملزم کو پہلے ہی گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا ہے ۔ لیکن فسادی پولیس کی کارروائی سے مطمئن نہیں تھے اور اسی وجہ سے آدھی رات کے قریب انہوں نے پولیس اسٹیشن پر پتھراؤ کیا اور کئی گاڑیوں کو توڑ دیا ۔ پولیس کمشنر کے مطابق اس کے بعد ہجوم نے مقامی ہاسپٹل اور ہنومان مندر پر بھی پتھراؤ کیا جس کے بعد پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا ۔ مانکھرو اورمہاراشٹرا کے دیگر مقامات پر رام نومی کی تقریبات کے دوران تشدد بھڑکانے پر مختلف پولیس اسٹیشنوں میں چھ مقدمات درج ہیں ۔ مانخورد میں دو فرقوںکے درمیان تصادم کے واقعہ میں30افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ مختلف مقدمات میں مجموعی طور پر 61 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ مہاراشٹرا کے امراوتی ضلع کے اچل پور قصبہ میں پیر کو کرفیو نافذ کردیا گیا ۔ جب دو فرقوںکے افراد نے مذہبی جھنڈے ہٹانے پر ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا ۔