اقتدار کی دعویدار جماعتیں ایک دوسرے کے بجائے مشترکہ طور پر کانگریس تنقید کا نشانہ
حیدرآباد ۔ 8 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : کرناٹک میں کانگریس کی کامیابی کے بعد بی آر ایس اور بی جے پی کو تلنگانہ میں کانگریس کے لیے حالات سازگار ہونے کا اندازہ ہوگیا ہے ۔ جس کے بعد دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنانے کی حکمت عملی سے دستبرداری اختیار کرلی ہے اور کانگریس کو ٹارگیٹ کیا جارہا ہے ۔ کرناٹک کے نتائج سے قبل تک یہ دونوں جماعتیں تلنگانہ میں کانگریس کا کوئی وجود نہ ہونے کا تاثر دیتے ہوئے اقتدار کے لیے دونوں جماعتوں میں اہم مقابلہ ہونے کا دعویٰ کررہی تھی ۔ چیف منسٹر کے سی آر کے بشمول وزراء ، بی آر ایس کے ارکان اسمبلی ارکان پارلیمنٹ اور پارٹی کے دیگر قائدین وزیراعظم نریندر مودی ، مرکزی حکومت اور اس کے پالیسیوں تلنگانہ سے نا انصافی فنڈز کی عدم اجرائی پراجکٹس کو منظوری نہ دینے کے علاوہ دوسرے امور پر بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سیاسی مفادات کی خاطر ملک اور ریاست میں فرقہ پرستی کو ہوا دیتے ہوئے تلنگانہ کی گنگا جمنی تہذیب کو نقصان پہونچانے کا الزام عائد کررہی تھی دوسری جانب بی جے پی بھی تلنگانہ میں ڈبل انجن حکومت قائم ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کے سی آر خاندان پر ریاست کو لوٹ لینے ، بدعنوانیاں اور بے قاعدگیاں عروج پر پہونچ جانے ، آبپاشی پراجکٹس میں کمیشن حاصل کرنے سرکاری اراضیات پر قبضہ کرلینے ، ملازمتوں کی فراہمی میں ناکام ہوجانے کے الزامات عائد کرتے ہوئے جارحانہ موقف اختیار کیا تھا تاہم کرناٹک کے نتائج کے بعد دونوں جماعتیں خاموش ہوگئی ہیں ۔ ایک دوسرے کو تنقید نہیں بنارہی ہیں بلکہ دونوں مل کر کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں ۔ چیف منسٹر کے سی آر ، بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ و ریاستی وزیر کے ٹی آر اضلاع کے دورے کرتے ہوئے کانگریس کے 60 سالہ دور حکومت کو ناکام بتاتے ہوئے عوام کو کانگریس پر بھروسہ نہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں اور بی جے پی کے قائدین بھی کرناٹک کے نتائج کا تلنگانہ میں کوئی اثر نہیں ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کانگریس اقتدار کے دوڑ میں شامل نہ ہونے کا دعویٰ کررہے ہیں ۔۔ ن