Thursday , August 22 2019

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کماراسوامی کو آج ثابت کرنی ہوگی اکثریت: گورنر وجوبھائی

کرناٹک کے گورنر وجوبھائی والانے وزیراعلیٰ ایچ ڈی کماراسوامی کو آج دوپہر 1:30 بجے تک اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت دی ہے۔اس پہلے گورنرنے وجوبھائی والا نے اسپیکرآر کے رمیش کمارکو پیغام بھیجاتھا کہ وزیراعلیٰ کی تجویزتحریک اعتماد پر کاروائی جمعرات تک ہی پوری کرلیں۔ اس کے باوجود اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کرشن کمارریڈی نے ہنگامے اور برسراقتدار پارٹیوں کے اراکین اسمبلی کے ذریعے بی جےپی پرگورنر کے غلط استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے نعرے بازی کرنے کی وجہ سے اسمبلی کی کاروائی جمعہ تک کے لیے ملتوی کردی۔ اب گورنرنے وزیراعلیٰ کو ہدایت دی ہے کہ جمعہ کو1:30 بجے تک اسمبلی میں اکثریت ثابت کریں۔ اس طرح سے 14 ماہ پرانی کانگریس۔ جے ڈی ایس کے اتحاد کی حکومت کی قسمت کا آج فیصلہ ہوگا۔کرناٹک میں پارلیمانی امور کے وزیرکرشنا بايریگوڑا نے اس معاملے میں کہا کہ موصوف گورنر کی ہدایت کے پیچھے ان اپوزیشن بی جے پی اراکین اسمبلی کا مطالبہ کارفرماہے۔ جنہوں نے گورنرسے ملاقات کرکے مداخلت کرنے کی گزارش کی تھی۔وہیں سابق وزیر ایچ کے پاٹل (کانگریس) نے گورنر کی ہدایت پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ گورنر اسمبلی کی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتے ہيں۔ اس پر بی جے پی ارکان باسوراج بومئي اورسریش کمار نے مخالفت جتاتے ہوئے کہا کہ گورنر کو ایوان کے اسپیکرکو ہدایات دینے کا مکمل اختیارہے۔

کرناٹک اسمبلی میں متعلقہ پارٹیوں کے وہپ جاری کئے جانے کے باوجود کانگریس کے 12 اور جنتادل (ایس) کے تین اراکین سمیت کم از کم 15اراکین اسمبلی کے جمعرات کو ایوان کی کارروائی میں حصہ نہیں لیاہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق تمام 15باغی اراکین اسمبلی نے وہپ جاری ہونے کے باوجود ایوان کی کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔ باغی اراکین اسمبلی کے ایوان کی کارروائی میں شامل نہیں ہونے سے مخلوط حکومت اقلیت میں نظر آرہی ہے۔

اس درمیان کانگریس کے دو دیگر اراکین اسمبلی شری منت پاٹل اور بی ناگیندر بھی اسپتال میں داخل ہونے کی وجہ سے ایوان میں حاضر نہیں ہوئے۔ اس وجہ سے ریاست کی 14مہینے پرانی جنتادل (ایس)۔کانگریس کی مخلوط حکومت کی فکرمندی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔بی ناگیندر شہر کے اسپتال میں ہی داخل ہیں جبکہ شری منت پاٹل جن کےبی جے پی کے خیمہ میں جانے کی رپورٹ ہے،ان کا ممبئی کے ایک اسپتال میں علاج چل رہا ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن پارٹی بی جے پی کے تمام 105اراکین ایوان کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی ایوان میں پہنچ گئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT