ہریانہ کی شکایتوں کو الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے پر غور‘ راہول گاندھی کاووٹرس سے اظہارتشکر
نئی دہلی :جموں و کشمیر اور ہریانہ اسمبلی انتخابات کے نتائج کا 8 اکتوبر کو اعلان کردیا گیا۔ ایک طرف جہاں مرکز کے زیر انتظام خطہ جموں و کشمیر میں انڈیا اتحاد کو واضح اکثریت حاصل ہوئی ہے وہیں ہریانہ میں بی جے پی کی فتح نے سبھی کو حیران کر دیا ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے نتیجہ پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں، لیکن ہریانہ کے نتائج پر انھوں نے کچھ اظہارِ فکر کیا ہے اور الیکشن کمیشن کا رخ کرنے کی بات کہی ہے۔راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اسمبلی انتخابات کے نتائج سے متعلق اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کا تہہ دل سے شکریہ۔ انڈیا اتحاد کی فتح آئین کی فتح ہے، جمہوری وقار کی فتح ہے۔اس کے بعد ہریانہ کے تعلق سے انہوں نے لکھاکہ ہم ہریانہ کے غیر متوقع نتیجہ کا جائزہ لے رہے ہیں۔ کئی اسمبلی حلقوں سے آ رہی شکایتوں سے انتخابی کمیشن کو مطلع کرائیں گے۔ہریانہ میں کانگریس کو ملی شکست کے باوجود راہول گاندھی پارٹی کیڈرکی حوصلہ افزائی کی ہے۔سبھی ہریانہ باشندوں کو ان کی حمایت اور ہمارے ببر شیر کارکنان کو ان کی سخت محنت کے لیے دل سے شکریہ۔ حق کی، سماجی و معاشی انصاف کی، سچائی کی یہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔ قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر کے اسمبلی انتخاب میں کانگریس اور نیشنل کانفرنس کے اتحاد نے 90 نشستوں میں سے 49 پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اس اتحاد میں نیشنل کانفرنس کو 42، کانگریس کو 6 اور سی پی آئی (ایم) کو ایک سیٹ حاصل ہوئی ہے۔ بی جے پی کو 29 نشستوں پر جیت ملی ہے اور یہ سبھی سیٹیں جموں علاقہ کی ہیں۔ یعنی کشمیر کی کسی بھی اسمبلی سیٹ پر اسے جیت نہیں ملی ہے۔ جے پی سی اور عام آدمی پارٹی کو 1‘1 سیٹیں ملی ہیں۔ 7 سیٹوں پر آزاد امیدواروں نے فتح کا پرچم لہرایا ہے۔ہریانہ کی بات کی جائے تو یہاں بی جے پی نے 90 اسمبلی سیٹوں میں سے 48 سیٹوں پر جیت حاصل کی ہے۔ اس طرح اکثریت کے لیے ضروری 46 سیٹوں سے اس نے 2 سیٹیں زیادہ حاصل کر لی ہیں۔ کانگریس کو 37 سیٹوں پر اور آئی این ایل ڈی کو 2 سیٹوں پر کامیابی ملی ہے۔ 3 سیٹیں آزاد امیدواروں کے حصے میں گئی ہیں۔